مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ فَضْلِ الْمَسَاجِدِ وَمَوَاضِعِ الذِّكْرِ وَالسُّجُودِ . باب: مساجد کی فضیلت ، ذکر کے مقامات اور سجدے کے مقام کی فضیلت کا بیان
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لِجِبْرِيلَ : " أَيُّ الْبِقَاعِ خَيْرٌ ؟ " قَالَ : لَا أَدْرِي قَالَ : " فَسَلْ عَنْ ذَلِكَ رَبَّكَ عَزَّ وَجَلَّ " قَالَ : فَبَكَى جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَقَالَ : يَا مُحَمَّدُ وَلَنَا أَنْ نَسْأَلَهُ ؟ هُوَ الَّذِي يُخْبِرُنَا بِمَا يَشَاءُ ، فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : خَيْرُ الْبِقَاعِ بُيُوتُ اللَّهِ فِي الْأَرْضِ قَالَ : " فَأَيُّ الْبِقَاعِ شَرٌّ ؟ " فَعَرَجَ إِلَى السَّمَاءِ ثُمَّ أَتَاهُ فَقَالَ : شَرُّ الْبِقَاعِ الْأَسْوَاقُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقِدٍ الْقَيْسِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا جبرائیل سے دریافت کیا : زمین کا کون سا حصہ زیادہ بہتر ہے انہوں نے جواب دیا : مجھے نہیں معلوم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تم اس بارے میں اپنے پروردگار سے دریافت کرنا راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام رو پڑے اور بولے : اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کیا ہمیں اس بات کا حق حاصل ہے کہ ہم اس سے پوچھیں وہ جو چاہتا ہے ہمیں اس کے بارے میں بتا دیتا ہے پھر وہ آسمان کی طرف چلے گئے پھر وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے بتایا : زمین کا سب سے بہتر حصہ زمین میں موجود اللہ کے گھر ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : زمین کا کون سا حصہ سب سے برا ہے وہ دوبارہ آسمان کی طرف گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور بتایا : زمین کا سب سے برا حصہ بازار ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، اور وہ ” ضعیف“ ہے ۔