مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران اذان دینا
وَعَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ قَالَ : بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ إِذْ سَمِعَ مُنَادِيًا يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ : " شَهِدَ بِشَهَادَةِ الْحَقِّ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ ، انْظُرُوا فَسَتَجِدُونَهُ إِمَّا رَاعِيًا مَعْزِيًّا وَإِمَّا مُكَلِّبًا ، فَنَظَّرُوهُ فَوَجَدُوهُ رَاعِيًا حَضَرَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ ، وَفِيهِ الْحَكَمُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْقُرَشِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک سفر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے موذن کو اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ کہتے ہوئے سنا تو ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے اَشهَدُ اَنْ لا اله الا اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس نے حق کے ہمراہ گواہی دی ہے ، اس نے اَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا تم لوگ اس کا جائزہ لو تم اسے پاؤ گے یا تو یہ چرواہا ہو گا ، جو گھر والوں سے دور ہو گا یا کتوں کے ساتھ شکار کرنے والا کوئی شخص ہو گا ، جب لوگوں نے اس کا جائزہ لیا تو انہوں نے اسے پایا کہ وہ ایک چرواہا تھا ، جسے نماز کا وقت ہو گیا تھا تو اس نے نماز کے لئے اذان دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم صغیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی حکم بن عبدالملک قرشی ہے ، اور وہ ” ضعیف “ ہے ۔