مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ الْأَذَانِ فِي السَّفَرِ . باب: سفر کے دوران اذان دینا
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ سَمِعَ مُنَادِيًا يُنَادِي : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " عَلَى الْفِطْرَةِ " ، فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " خَرَجَ مِنَ النَّارِ " . فَابْتَدَرْنَاهُ فَإِذَا هُوَ صَاحَبُ مَاشِيَةٍ أَدْرَكَتْهُ الصَّلَاةُ فَنَادَى بِهَا . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ سفر کے دوران ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے آپ نے مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنا اس نے اللہ اکبر اللہ اکبر پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ فطرت پر ہے ، اس نے اشہد ان لا اله الا اللہ پڑھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ جہنم سے نکل گیا ہم لپک کر اس شخص کی طرف گئے تو وہ جانوروں میں موجود ایک شخص تھا نماز کا وقت ہو گیا تو اس نے اس کے لئے اذان دی تھی ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام ابویعلیٰ نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔