حدیث نمبر: 1892
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَبِيعَةَ السُّلَمِيِّ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي سَفَرٍ فَسَمِعَ مُؤَذِّنًا يَقُولُ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ " . قَالَ : أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ " ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " تَجِدُونَهُ رَاعِيَ غَنَمٍ أَوْ عَازِبًا عَنْ أَهْلِهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَزَادَ : قَالَ : فَهَبَطَ الْوَادِيَ ، فَإِذَا هُوَ بِشَاةٍ مَيِّتَةٍ ، فَقَالَ : " أَتَرَوْنَ هَذِهِ هَيِّنَةً عَلَى أَهْلِهَا ؟ " قَالُوا : نَعَمْ . قَالَ : " الدُّنْيَا عَلَى اللَّهِ أَهْوَنُ مِنْ هَذِهِ عَلَى أَهْلِهَا " . ¤ وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن ربیعہ سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک سفر میں تھے آپ نے مؤذن کو یہ کہتے ہوئے سنا اشهد ان لا اله الا الله نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس مؤذن نے کہا: أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُوْلُ اللہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں پھر نبی کرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم لوگ اسے بکریوں کا چرواہا یا اپنے اہل خانہ سے دور شخص پاؤ گے ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : جب وہ وادی کے نشیبی حصے میں آئے تو وہاں ایک مردار بکری موجود تھی آپ نے ارشاد فرمایا : کیا تم لوگ یہ سمجھتے ہو کہ اپنے مالک کے نزدیک یہ بے حیثیت ہے ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : دنیا ، اللہ تعالیٰ کے نزدیک اس سے زیادہ بے حیثیت ہے جتنی یہ ( مردہ بکری ) اپنے مالکان کے نزدیک بے حیثیت ہے “ ۔ اس روایت کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1892
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔