مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهَا لِي عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ . قُلْتُ : وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا مانگو کیونکہ جو بھی بندہ دنیا میں میرے لئے اسے مانگے گا قیامت کے دن میں اس شخص کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبدالملک حرانی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے یہ مستقیم الحدیث ہے ، جب یہ ” ثقہ “ راویوں سے روایت نقل کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے موسیٰ بن امین سے نقل کی ہے ’ اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔