مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةَ الْوَسِيلَةِ عِنْدَكَ ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ لَيَّنَهُ الْحَاكِمُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اذان سننے کے بعد یہ کلمات پڑھے : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما اور انہیں اپنی بارگاہ میں وسیلہ کے درجہ تک پہنچا دے اور قیامت کے دن ہمیں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے لئے شفاعت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے ، جسے امام حاکم رحمہ اللہ نے کمزور قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔