مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 1879
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، صَلِّ عَلَى عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ هَذَا عِنْدَ النِّدَاءِ جَعَلَهُ اللَّهُ فِي شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الْمَذْكُورُ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اذان سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو اپنے بندے اور اپنے رسول پر درود نازل فرما اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص اذان کے بعد یہ دعا پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں صدقہ نامی وہی راوی ہے ، جو اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہو چکا ہے ۔