کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 1866
عَنْ مُعَاذِ بْنِ أَنَسٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُنَادِيَ يُثَوِّبُ بِالصَّلَاةِ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا معاذ بن انس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم مؤذن کو نماز کے لئے تثویب کہتے ہوئے ( یعنی اذان دیتے ہوئے یا اقامت پڑھتے ہوئے ) سنو تو اس کی مانند کلمات کہو جو وہ کہہ رہا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1866
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف۔
حدیث نمبر: 1867
وَعَنْ أَبِي رَافِعٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ ، حَتَّى إِذَا بَلَغَ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : کہ جب آپ مؤذن کو سنتے تھے تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے جو مؤذن پڑھتا تھا یہاں تک کہ جب وہ حَيَّ عَلَی الصَّلَاةِ اور حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ پڑھتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم یہ پڑھتے تھے اللہ تعالیٰ کی مدد اور اس کی عطا کردہ قوت کے بغیر کچھ نہیں ہو سکتا ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1867
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف، کیونکہ اس کی سند میں عاصم بن عبید اللہ راوی ضعیف ہے۔
حدیث نمبر: 1868
وَعَنْ أَنَسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا سَمِعْتُمُ الْمُؤَذِّنَ فَقُولُوا كَمَا يَقُولُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ حَفْصُ بْنُ عَمَّارٍ الطَّاحِيُّ ، وَلَمْ يُتَابَعْ عَلَيْهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب تم مؤذن کو سنو تو وہ کلمات کہو جو وہ کہتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : حفص بن عمار طاحی اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ، اور اس کے حوالے سے اس کی متابعت نہیں کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1868
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1869
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ قَالَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِذَا قَالَ : حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ حَيَّ عَلَى الْفَلَاحِ قَالَ : " لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَاصِمُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ وَهُوَ ضَعِيفٌ ، إِلَّا أَنَّ مَالِكًا رَوَى عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
عبداللہ بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو سنتے تھے تو اس کی مانند کلمات پڑھتے تھے ، جو وہ پڑھتا تھا جب وہ حَىٰ عَلَى الصَّلَاةِ اور حی علی الفلاح پڑھتا تھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم «لَا حَوْلَ وَلَا قوَةَ إِلَّا بِاللَّهُ پڑھتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عاصم بن عبیداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ، تاہم امام مالک نے اس سے روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1869
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1870
وَعَنْ هِلَالِ بْنِ يَسَافٍ أَنَّهُ سَمِعَ مُعَاوِيَةَ يُحَدِّثُ أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَنْ سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ ، فَقَالَ مِثْلَ مَا يَقُولُ - فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ عَنِ الْحِجَازِيِّينَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ فِيهِمْ . ¤
محمد محی الدین
ہلال بن یساف بیان کرتے ہیں : انہوں نے سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کو یہ حدیث بیان کرتے ہوئے سنا انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جو شخص مؤذن کو سنتا ہے ، اور اس کی مانند کلمات پڑھتا ہے ، جو مؤذن پڑھتا ہے ، تو اس شخص کو اس مؤذن کی مانند اجر ملے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اسماعیل بن عیاش کی اہل حجاز سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے ، اور ان لوگوں کے بارے میں وہ شخص ” ضعیف “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1870
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الكبير للطبراني باب الميم من اسمه محمود ابن يساف ، 16568»
حدیث نمبر: 1871
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ " . قَالَ عُمَرُ : هَذَا لِلنِّسَاءِ ، فَمَاذَا لِلرِّجَالِ ؟ قَالَ : " ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ فِي النِّكَاحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کی صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ جب تم اس حبشی کی آواز سنو اور اس کی اقامت سنو تو وہی کلمات پڑھو جو یہ پڑھتا ہے کیونکہ ہر ایک حرف کے عوض میں ہزار ہزار ( یعنی دس لاکھ ) درجات کا ثواب ملے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ فضیلت تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! اس کا دگنا ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث مکمل روایت کے طور پر نکاح سے متعلق باب میں عورت پر شوہر کے حق سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں یہ مذکور ہے ، اسے جزری نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں عباد بن کثیر نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں جب کہ دوسری سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1871
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1872
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَّسَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، وَشَهِدَ مِثْلَ شَهَادَتِهِ - فَلَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس کے کلمات کی مانند پڑھے گا ، اور اس کی گواہی کی مانند گواہی دے گا اسے جنت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن عدی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1872
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1873
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مِنَ الْجَفَاءِ أَرْبَعَةٌ : أَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - فَلَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ . وَأَنْ يَمْسَحَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ صَلَاتَهُ . وَأَنْ يَبُولَ قَائِمًا ، وَأَنْ يُصَلِّيَ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : چار چیزیں جفا کا حصہ ہیں یہ کہ آدمی مؤذن کو الله اكبر الله اكبر أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہتے ہوئے سنے اور پھر جو وہ کہہ رہا ہے ، اس کی مانند نہ کہے ، اور یہ کہ آدمی نماز مکمل کرنے سے پہلے اپنے چہرے کو پونچھ لے ( یعنی مٹی وغیرہ صاف کر لے ) اور یہ کہ آدمی کھڑا ہو کر پیشاب کرے اور یہ کہ آدمی یوں نماز ادا کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے لئے سترہ بن رہی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسیب بن رافع نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1873
درجۂ حدیث محدثین: منقطع
حدیث نمبر: 1874
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - قَالَ عَلِيٌّ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمُ الْكَاذِبُونَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَتِهِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤
محمد محی الدین
عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو وہی کلمات پڑھتے تھے جو وہ پڑھتا تھا جب وہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ پڑھتا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہ پڑھتے تھے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ اور ساتھ میں کہتے تھے جن لوگوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔
یہ روایت امام عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابوسعید نامی راوی نے ابن ابولیلی سے نقل کیا ہے ۔ میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسعید نامی راوی ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1874
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1875
وَعَنْ جَابِرٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ قَالَ حِينَ يُنَادِي الْمُنَادِي : اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ الْقَائِمَةِ ، وَالصَّلَاةِ النَّافِعَةِ ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ ، وَارْضَ عَنِّي رِضَاءً لَا سَخَطَ بَعْدَهُ - اسْتَجَابَ اللَّهُ لَهُ دَعْوَتَهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب مؤذن اذان دے ( تو اس کے بعد ) جو شخص یہ پڑھ لے : ” اے اللہ ! اسے اس قائم ہونے والی دعوت اور نفع دینے والی نماز کے پروردگار ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما اور ہم سے اس طرح راضی ہو جا کہ اس کے بعد کوئی ناراضگی نہ ہو “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اللہ تعالیٰ اس شخص کی دعا کو قبول فرما لیتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1875
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1876
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ : " فَسَلُوا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ عَلَى خَلْقِهِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک درجہ ہے ، جس کے اوپر اور کوئی درجہ نہیں ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگو کہ وہ مجھے وسیلہ عطا کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ مجھے اپنی مخلوق کے حوالے سے وسیلہ عطا کرے “ ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1876
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف بوجہ ابن لہیعہ، لیکن دیگر صحیح شواہد کی بنا پر یہ حدیث صحیح ہے۔
حدیث نمبر: 1877
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ ، وَسَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ " فَسَأَلْنَاهُ أَوْ أَخْبَرَنَا ، فَقَالَ : " هِيَ دَرَجَةٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ ذَلِكَ الرَّجُلَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عُلْبَةَ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنِّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ : حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ فِي جُمْلَةِ الضُّعَفَاءِ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ مجھ پر درود بھیجو کیونکہ یہ تمہارے لئے پاکیزگی کے حصول کا باعث ہو گا اور تم لوگ میرے لئے جنت میں وسیلہ کی دعا کرو راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے آپ سے سوال کیا یا آپ نے ہمیں خود ہی بتا دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ جنت کے بالائی حصے میں موجود ایک درجہ ہے ، اور یہ ایک ہی شخص کو ملے گا مجھے یہ توقع ہے کہ وہ شخص میں ہوؤں گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن علبہ ہے ، جسے یحیی بن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن نمیر نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے موسیٰ بن داؤد ضبی بیان کرتے ہیں : ذؤاد بن علبہ نے ہمیں حدیث بیان کی اور پھر موسیٰ نے ان کی تعریف کی ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان ضعیف راویوں میں سے ایک ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1877
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1878
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَكَانَ يُسْمِعُهَا مَنْ حَوْلَهُ ، وَيُحِبُّ أَنْ يَقُولُوا مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعُوا الْمُؤَذِّنَ . قَالَ : " وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے ) سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ( یعنی اذان کے بعد یہ دعا مانگتے تھے : ) ” اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما اور قیامت کے دن انہوں نے جو مانگا ہے وہ انہیں عطا فرما “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آس پاس موجود افراد کو یہ کلمات ( بلند آواز میں پڑھ کر ) سناتے تھے ، اور آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ لوگ بھی اس کی مانند دعا مانگیں جب وہ مؤذن کو سنیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مؤذن کو سنے ( اور اذان مکمل ہونے کے بعد ) اس کی مانند کلمات پڑھے اس کے لئے قیامت کے دن سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم ابوحاتم اور أحمد بن صالح مصری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1878
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1879
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذَا سَمِعَ النِّدَاءَ قَالَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، صَلِّ عَلَى عَبْدِكَ وَرَسُولِكَ ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ هَذَا عِنْدَ النِّدَاءِ جَعَلَهُ اللَّهُ فِي شَفَاعَتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ الْمَذْكُورُ قَبْلَ هَذَا الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب اذان سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے : ” اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو اپنے بندے اور اپنے رسول پر درود نازل فرما اور ہمیں قیامت کے دن ان کی شفاعت نصیب فرما “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : جو شخص اذان کے بعد یہ دعا پڑھ لیتا ہے اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کو میری شفاعت نصیب کرے گا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں صدقہ نامی وہی راوی ہے ، جو اس سے پہلے والی حدیث میں ذکر ہو چکا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1879
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1880
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " سَلُوا اللَّهَ لِي الْوَسِيلَةَ ; فَإِنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهَا لِي عَبْدٌ فِي الدُّنْيَا إِلَّا كُنْتُ لَهُ شَهِيدًا أَوْ شَفِيعًا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ الْوَلِيدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحَرَّانِيُّ ، وَقَدْ ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ وَقَالَ : مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ إِذَا رَوَى عَنِ الثِّقَاتِ . قُلْتُ : وَهَذَا مِنْ رِوَايَتِهِ عَنْ مُوسَى بْنِ أَعْيَنَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : اللہ تعالیٰ سے میرے لئے وسیلہ کی دعا مانگو کیونکہ جو بھی بندہ دنیا میں میرے لئے اسے مانگے گا قیامت کے دن میں اس شخص کا گواہ اور شفاعت کرنے والا ہوؤں گا“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ولید بن عبدالملک حرانی ہے ، جس کا ذکر ابن حبان نے کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ، اور انہوں نے یہ بات بیان کی ہے یہ مستقیم الحدیث ہے ، جب یہ ” ثقہ “ راویوں سے روایت نقل کرے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت اس نے موسیٰ بن امین سے نقل کی ہے ’ اور وہ ” ثقہ “ ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1880
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب الالف من اسمه احمد 639»
حدیث نمبر: 1881
وَعَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ فَقَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَبَلِّغْهُ دَرَجَةَ الْوَسِيلَةِ عِنْدَكَ ، وَاجْعَلْنَا فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ - وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ كَيْسَانَ لَيَّنَهُ الْحَاكِمُ وَضَعَّفَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو شخص اذان سننے کے بعد یہ کلمات پڑھے : ” میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے صرف وہی ایک معبود ہے ، اس کا کوئی شریک نہیں ہے ، اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما اور انہیں اپنی بارگاہ میں وسیلہ کے درجہ تک پہنچا دے اور قیامت کے دن ہمیں ان کی شفاعت سے بہرہ مند فرما “ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو اس شخص کے لئے شفاعت واجب ہو جاتی ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسحاق بن عبداللہ بن کیسان ہے ، جسے امام حاکم رحمہ اللہ نے کمزور قرار دیا ہے ، اور ابن حبان نے ضعیف قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1881
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
حدیث نمبر: 1882
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ مُسْلِمٍ يَقُولُ حِينَ يَسْمَعُ النِّدَاءَ ، يُكَبِّرُ وَيُكَبِّرُ ، وَيَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَيَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، ثُمَّ يَقُولُ : اللَّهُمَّ أَعْطِ مُحَمَّدًا الْوَسِيلَةَ وَالْفَضِيلَةَ ، وَاجْعَلْ فِي الْأَعْلَيْنَ دَرَجَتَهُ ، وَفِي الْمُصْطَفَيْنَ مَحَبَّتَهُ ، وَفِي الْمُقَرَّبِينَ ذِكْرَهُ - إِلَّا وَجَبَتْ لَهُ الشَّفَاعَةُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی مسلمان اذان سننے کے دوران جب مؤذن تکبیر کہے ، تو وہ بھی تکبیر کہے ، جب وہ اس بات کی گواہی دے کہ اللہ تعالی کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے ، اس بات کی گواہی دے کہ سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں ( تو سننے والا بھی یہی کلمات پڑھے ) اور پھر وہ یہ دعا مانگے : ” اے اللہ ! تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو وسیلہ اور فضیلت عطا فرما اور ” اعلین “ میں ان کے درجات بنا دے اور برگزیدہ بندوں میں ان کی محبت رکھ دے اور مقرب لوگوں میں ان کا ذکر رکھ دے “ ۔ ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : ) تو قیامت کے دن اس شخص کے لئے شفاعت واجب ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1882
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
حدیث نمبر: 1883
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّهُ كَانَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ : أَشْهَدُ بِهَا مَعَ كُلِّ شَاهِدٍ ، وَأَتَحَمَّلُ بِهَا عَلَى كُلِّ جَاحِدٍ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : جب وہ مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو یہ کہتے تھے : ہر گواہ کے ہمراہ میں بھی اس بات کی گواہی دیتا ہوں ، اور ہر منکر کے خلاف میں اس کلمہ کو اختیار کرتا ہوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” ثقہ “ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1883
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح۔