مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ يَقُولُ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ : " اللَّهُمَّ رَبَّ هَذِهِ الدَّعْوَةِ التَّامَّةِ وَالصَّلَاةِ الْقَائِمَةِ ، صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ وَأَعْطِهِ سُؤْلَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " ، وَكَانَ يُسْمِعُهَا مَنْ حَوْلَهُ ، وَيُحِبُّ أَنْ يَقُولُوا مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعُوا الْمُؤَذِّنَ . قَالَ : " وَمَنْ قَالَ مِثْلَ ذَلِكَ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ وَجَبَتْ لَهُ شَفَاعَةُ مُحَمَّدٍ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ صَدَقَةُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ السَّمِينُ ضَعَّفَهُ أَحْمَدُ وَالْبُخَارِيُّ وَمُسْلِمٌ وَغَيْرُهُمْ ، وَوَثَّقَهُ دُحَيْمٌ وَأَبُو حَاتِمٍ وَأَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ الْمِصْرِيُّ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے ) سنتے تھے تو یہ پڑھتے تھے ( یعنی اذان کے بعد یہ دعا مانگتے تھے : ) ” اے اللہ ! اے اس مکمل دعوت اور اس کے نتیجے میں کھڑی ہونے والی نماز کے پروردگار تو سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم پر درود نازل فرما اور قیامت کے دن انہوں نے جو مانگا ہے وہ انہیں عطا فرما “ ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے آس پاس موجود افراد کو یہ کلمات ( بلند آواز میں پڑھ کر ) سناتے تھے ، اور آپ اس بات کو پسند کرتے تھے کہ وہ لوگ بھی اس کی مانند دعا مانگیں جب وہ مؤذن کو سنیں آپ نے ارشاد فرمایا ہے : ” جو شخص مؤذن کو سنے ( اور اذان مکمل ہونے کے بعد ) اس کی مانند کلمات پڑھے اس کے لئے قیامت کے دن سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی شفاعت واجب ہو جائے گی“ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صدقہ بن عبداللہ سمین ہے ، جسے امام أحمد امام بخاری رحمہ اللہ امام مسلم اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ دحیم ابوحاتم اور أحمد بن صالح مصری نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔