مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَلُّوا عَلَيَّ فَإِنَّهَا زَكَاةٌ لَكُمْ ، وَسَلُوا لِيَ الْوَسِيلَةَ مِنَ الْجَنَّةِ " فَسَأَلْنَاهُ أَوْ أَخْبَرَنَا ، فَقَالَ : " هِيَ دَرَجَةٌ فِي أَعْلَى الْجَنَّةِ ، وَهِيَ لِرَجُلٍ أَرْجُو أَنْ أَكُونَ ذَلِكَ الرَّجُلَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ دَاوُدُ بْنُ عُلْبَةَ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ وَالنِّسَائِيُّ وَغَيْرُهُمَا ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ نُمَيْرٍ ، وَقَالَ مُوسَى بْنُ دَاوُدَ الضَّبِّيُّ : حَدَّثَنَا ذُؤَادُ بْنُ عُلْبَةَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : هُوَ فِي جُمْلَةِ الضُّعَفَاءِ مِمَّنْ يُكْتَبُ حَدِيثُهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” تم لوگ مجھ پر درود بھیجو کیونکہ یہ تمہارے لئے پاکیزگی کے حصول کا باعث ہو گا اور تم لوگ میرے لئے جنت میں وسیلہ کی دعا کرو راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے آپ سے سوال کیا یا آپ نے ہمیں خود ہی بتا دیا اور آپ نے ارشاد فرمایا : یہ جنت کے بالائی حصے میں موجود ایک درجہ ہے ، اور یہ ایک ہی شخص کو ملے گا مجھے یہ توقع ہے کہ وہ شخص میں ہوؤں گا “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی داؤد بن علبہ ہے ، جسے یحیی بن معین امام نسائی رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن نمیر نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے موسیٰ بن داؤد ضبی بیان کرتے ہیں : ذؤاد بن علبہ نے ہمیں حدیث بیان کی اور پھر موسیٰ نے ان کی تعریف کی ابن عدی کہتے ہیں : یہ ان ضعیف راویوں میں سے ایک ہے ، جس کی حدیث کو نوٹ کیا جائے گا ۔