مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي رُؤْيَةِ أَهْلِ الْجَنَّةِ لِلَّهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَرِضَاهُ عَنْهُمْ . باب: اہل جنت کا اللہ تعالیٰ کا دیدار کرنا اور اللہ تعالیٰ کا ان سے راضی ہو جانا
وَعَنْ حُذَيْفَةَ - يَعْنِي ابْنَ الْيَمَانِ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي كَفِّهِ مِثْلُ الْمِرْآةِ فِي وَسَطِهَا لَمْعَةٌ سَوْدَاءُ ، قُلْتُ : يَا جِبْرِيلُ ، مَا هَذِهِ ؟ قَالَ : هَذِهِ الدُّنْيَا ، صَفَاؤُهَا وَحُسْنُهَا . قُلْتُ : مَا هَذِهِ اللَّمْعَةُ السَّوْدَاءُ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ ، قُلْتُ : وَمَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ ؟ قَالَ : يَوْمٌ مِنْ أَيَّامِ رَبِّكَ عَظِيمٌ ، فَذَكَرَ شَرَفَهُ ، وَفَضْلَهُ ، وَاسْمَهُ فِي الْآخِرَةِ ، فَإِنَّ اللَّهَ إِذَا صَيَّرَ أَهْلَ الْجَنَّةِ إِلَى الْجَنَّةِ ، وَأَهْلَ النَّارِ إِلَى النَّارِ ، وَلَيْسَ ثَمَّ لَيْلٌ وَلَا نَهَارٌ ، قَدْ عَلِمَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - مِقْدَارَ تِلْكَ السَّاعَاتِ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِي وَقْتِ الْجُمُعَةِ الَّتِي يَخْرُجُ أَهْلُ الْجُمُعَةِ إِلَى جُمُعَتِهِمْ ، فَيُنَادِي مُنَادٍ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، اخْرُجُوا إِلَى دَارِ الْمَزِيدِ ، فَيَخْرُجُونَ فِي كُثْبَانِ الْمِسْكِ " . ¤ قَالَ حُذَيْفَةُ : وَاللَّهِ لَهُوَ أَشَدُّ بَيَاضًا مِنْ دَقِيقِكُمْ . " فَيَخْرُجُ غِلْمَانُ الْأَنْبِيَاءِ عَلَى مَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، وَتَخْرُجُ غِلْمَانُ الْمُؤْمِنِينَ بِكَرَاسِيَّ مِنْ يَاقُوتٍ ، فَإِذَا قَعَدُوا وَأَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ بَعَثَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - رِيحًا تُدْعَى : الْمُثِيرَةَ ، فَتُثِيرُ عَلَيْهِمُ الْمِسْكَ الْأَبْيَضَ ، فَتُدْخِلُهُ فِي ثِيَابِهِمْ ، وَتُخْرِجُهُ مِنْ جُيُوبِهِمْ ، فَلَا رِّيحُ أَعْلَمُ بِذَلِكَ الطِّيبِ مِنَ امْرَأَةِ أَحَدِكُمْ ، لَوْ دُفِعَ إِلَيْهَا طِيبُ أَهْلِ الدُّنْيَا ، وَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : أَيْنَ عِبَادِيَ الَّذِينَ أَطَاعُونِي بِالْغَيْبِ وَصَدَّقُوا رُسُلِي ؟ فَهَذَا يَوْمُ الْمَزِيدِ ، يَجْتَمِعُونَ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ : إِنَّا قَدْ رَضِينَا ، فَارْضَ عَنَّا . وَيَرْجِعُ إِلَيْهِمْ فِي قَوْلِهِ لَهُمْ : يَا أَهْلَ الْجَنَّةِ ، لَوْ لَمْ أَرْضَ عَنْكُمْ لَمْ أُسْكِنْكُمْ جَنَّتِي ، فَهَذَا يَوْمُ الْمَزِيدِ ، فَسَلُونِي . فَيَجْتَمِعُونَ عَلَى كَلِمَةٍ وَاحِدَةٍ : أَرِنَا وَجْهَكَ نَنْظُرْ إِلَيْهِ " . قَالَ : " فَيَكْشِفُ اللَّهُ تَعَالَى - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - الْحُجُبَ ، وَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَيَغْشَاهُمْ مِنْ نُورِهِ ، فَلَوْلَا أَنَّ اللَّهَ قَضَى أَنْ لَا يَمُوتُوا لَاحْتَرَقُوا ، ثُمَّ يُقَالُ لَهُمْ : ارْجِعُوا إِلَى مَنَازِلِكُمْ ، فَيَرْجِعُونَ وَقَدْ خَفُوا عَلَى أَزْوَاجِهِمْ ، وَخَفِينَ عَلَيْهِمْ مِمَّا غَشِيَهُمْ مِنْ نُورِهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - فَلَا يَزَالُ النُّورُ يَتَمَكَّنُ حَتَّى يَرْجِعُوا إِلَى حَالِهِمْ أَوْ إِلَى مَنَازِلِهِمُ الَّتِي كَانُوا عَلَيْهَا ، فَيَقُولُ لَهُمْ أَزْوَاجُهُمْ : لَقَدْ خَرَجْتُمْ مِنْ عِنْدِنَا بِصُوَرٍ وَرَجَعْتُمْ إِلَيْنَا بِغَيْرِهَا ، فَيَقُولُونَ : تَجَلَّى لَنَا رَبُّنَا - عَزَّ وَجَلَّ - فَنَظَرْنَا إِلَى مَا خَفِينَا بِهِ عَلَيْكُمْ " . ¤ قَالَ : " فَهُمْ يَتَقَلَّبُونَ فِي مِسْكِ الْجَنَّةِ وَنَعِيمِهَا فِي كُلِّ سَبْعَةِ أَيَّامٍ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكٌ . ¤سیدنا حذیفہ بن یمان رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آیا ، اس کے ہاتھ میں آئینہ جیسی ایک چیز تھی ، جس کے درمیان میں ایک سیاہ داغ موجود تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ دنیا ، اس کی صفائی اور اس کی خوبصورتی ہے ، میں نے دریافت کیا : یہ سیاہ داغ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جمعہ ہے ، میں نے دریافت کیا : جمعہ کا دن کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ آپ کے پروردگار کے دنوں میں سے ایک عظیم دن ہے ، پھر اس نے اس کے شرف اور اس کی فضیلت اور آخرت میں اس کے نام کا ذکر کیا کہ جب اللہ تعالیٰ اہل جنت کو جنت کی طرف اور اہل جہنم کو جہنم کی طرف بھیج دے گا ، تو وہاں ( دنیا کی طرح کے ) رات دن نہیں ہوں گے ، اللہ تعالیٰ ان گھڑیوں کا علم رکھتا ہو گا ، جب جمعہ کا دن آئے گا اور جمعہ ( کی نماز ) کا وقت ہو گا ، جس میں اہل جمعہ ، جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے لیے جاتے ہیں ، اس وقت ایک منادی یہ اعلان کرے گا : اے اہل جنت ! نکل کر ” دارمزید “ کی طرف جاؤ ! تو وہ نکل کر مشک کے ٹیلوں پر آئیں گے ۔ سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ کی قسم ! وہ تمہارے اس آٹے سے زیادہ سفید ہوں گے ، انبیاء کرام آ کر نور کے بنے ہوئے منبروں پر بیٹھ جائیں گے اور مومنین یاقوت کی بنی ہوئی کرسیوں پر بیٹھ جائیں گے ، جب وہ لوگ بیٹھ جائیں گے اور لوگ اپنی اپنی جگہ پر آ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ایک ہوا بھیجے گا جس کا نام ” مثیرہ “ ہو گا ، وہ اُن پر سفید مشک کا چھڑکاؤ کرے گی اور وہ ان کے کپڑوں کے اندر داخل ہو جائے گی اور ان کے گریبانوں میں سے نکل جائے گی اور کوئی اس خوشبو کے بارے میں ، تم میں سے کسی ایک کی بیوی سے زیادہ علم نہیں رکھتا ہو گا ، جب اسے اہل دنیا کی خوشبو دی جائے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میرے بندے کہاں ہیں ؟ جنہوں نے غیب کے عالم میں میری اطاعت کی اور میرے رسولوں کی تصدیق کی یہ ” یوم مزید “ ہے تو وہ سب لوگ ایک بات پر اکٹھے ہوں گے ( یعنی وہ سب مل کر یہ کہیں گے : ) بے شک ہم راضی ہو گئے ہیں ، تو بھی ہم سے راضی ہو جا ! تو اللہ تعالیٰ ان سے یہ فرمائے گا : اے اہل جنت ! اگر میں تم سے راضی نہ ہوتا تو میں نے تمہیں اپنی جنت میں نہیں ٹھہرانا تھا ، یہ ” یوم مزید “ ہے ، تم لوگ مجھ سے مانگو ، تو وہ سب مل کر ایک ہی بات کہیں گے : تو ہمیں اپنا دیدار کرا دے ، تاکہ ہم تجھے دیکھ لیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو اللہ تعالیٰ حجابات ہٹائے گا اور ان کے سامنے تجلی کرے گا اور اپنے نور کے ذریعے ان کو ڈھانپ لے گا اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ بات طے نہ ہو چکی ہوتی کہ وہ مریں گے نہیں ، تو وہ لوگ جل جاتے ، پھر ان سے کہا: جائے گا : تم لوگ اپنی رہائش گاہوں کی طرف واپس چلے جاؤ ! وہ واپس چلے جائیں گے ، وہ اپنی بیویوں سے پوشیدہ رہیں گے اور ان کی بیویاں ان سے پوشیدہ رہیں گی ، کیونکہ انہیں اللہ تعالیٰ کے نور نے ڈھانپا ہوا ہو گا ، وہ نور مسلسل ان پر رہے گا ، یہاں تک کہ وہ لوگ اپنی پہلی حالت کی طرف واپس آ جائیں گے ( یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے ) ان کی بیوی ان سے کہے گی : جب تم ہمارے پاس سے گئے تھے اس وقت تمہاری شکل و صورت مختلف تھی اور اب مختلف ہو چکی ہے ، تو وہ کہیں گے : ہمارے پروردگار نے ہمارے سامنے تجلی کی تھی ، تو ہم نے اس کو دیکھا ہے ، جو تم سے مخفی رہا ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو وہ ہر سات دنوں میں جنت کے مشک اور اس کی نعمتوں میں تبدیل ہوں گے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی قاسم بن مطیب ہے اور وہ متروک ہے ۔