حدیث نمبر: 18771
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَتَانِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - وَفِي يَدِهِ مِرْآةٌ بَيْضَاءُ ، فِيهَا نُكْتَةٌ سَوْدَاءُ ، فَقُلْتُ : مَا هَذِهِ يَا جِبْرِيلُ ؟ قَالَ : هَذِهِ الْجُمُعَةُ يَعْرِضُهَا رَبُّكَ لِتَكُونَ لَكَ عِيدًا ، وَلِقَوْمِكَ مِنْ بَعْدِكَ ، تَكُونُ أَنْتَ الْأَوَّلَ ، وَتَكُونُ الْيَهُودُ وَالنَّصَارَى مِنْ بَعْدِكَ ، قَالَ : مَا لَنَا فِيهَا ؟ قَالَ : لَكُمْ فِيهَا خَيْرٌ ، لَكُمْ فِيهَا سَاعَةٌ مَنْ دَعَا رَبَّهُ فِيهَا بِخَيْرٍ هُوَ لَهُ قَسَمٌ إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ ، وَلَيْسَ لَهُ بِقَسَمٍ إِلَّا دَخِرَ لَهُ مَا هُوَ أَعْظَمُ مِنْهُ ، أَوْ تَعَوَّذَ فِيهَا مِنْ شَرٍّ هُوَ مَكْتُوبٌ إِلَّا أَعَاذَهُ مِنْ أَعْظَمَ مِنْهُ . قُلْتُ : مَا هَذِهِ النُّكْتَةُ السَّوْدَاءُ فِيهَا ؟ قَالَ : هَذِهِ السَّاعَةُ تَقُومُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، وَهُوَ سَيِّدُ الْأَيَّامِ عِنْدَنَا ، وَنَحْنُ نَدْعُوهُ فِي الْآخِرَةِ يَوْمَ الْمَزِيدِ " . ¤ قَالَ : " قُلْتُ : لِمَ تَدْعُونَهُ يَوْمَ الْمَزِيدِ ؟ قَالَ : إِنَّ رَبَّكَ - عَزَّ وَجَلَّ - اتَّخَذَ فِي الْجَنَّةِ وَادِيًا أَفْيَحَ مِنَ الْمِسْكِ أَبْيَضَ ، فَإِذَا كَانَ يَوْمُ الْجُمُعَةِ نَزَلَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - مِنْ عِلِّيِّينَ عَلَى كُرْسِيِّهِ حَتَّى حَفَّ الْكُرْسِيَّ بِمَنَابِرَ مِنْ نُورٍ ، وَجَاءَ النَّبِيُّونَ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا ، ثُمَّ حَفَّ الْمَنَابِرَ بِكَرَاسِيَّ مِنْ ذَهَبٍ ، ثُمَّ جَاءَ الصِّدِّيقُونَ وَالشُّهَدَاءُ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَيْهَا ، ثُمَّ يَجِيءُ أَهْلُ الْجَنَّةِ حَتَّى يَجْلِسُوا عَلَى الْكَثِيبِ ، فَيَتَجَلَّى لَهُمْ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - حَتَّى يَنْظُرُوا إِلَى وَجْهِهِ ، وَهُوَ يَقُولُ : أَنَا الَّذِي صَدَقْتُكُمْ وَعْدِي ، وَأَتْمَمْتُ عَلَيْكُمْ نِعْمَتِي ، هَذَا مَحَلُّ كَرَامَتِي فَسَلُونِي . فَيَسْأَلُوهُ الرِّضَا فَيَقُولُ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : رِضَائِي أَحَلَّكُمْ دَارِي ، وَأَنَالَكُمْ كَرَامَتِي ، فَسَلُونِي . فَيَسْأَلُوهُ حَتَّى تَنْتَهِيَ رَغْبَتُهُمْ ، فَيَفْتَحُ لَهُمْ عِنْدَ ذَلِكَ مَا لَا عَيْنٌ رَأَتْ ، وَلَا أُذُنٌ سَمِعَتْ ، وَلَا خَطَرَ عَلَى قَلْبِ بَشَرٍ ، إِلَى مِقْدَارِ مُنْصَرَفِ النَّاسِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ ، ثُمَّ يَصْعَدُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَلَى كُرْسِيِّهِ فَيَصْعَدُ مَعَهُ الشُّهَدَاءُ وَالصِّدِّيقُونَ - أَحْسَبُهُ قَالَ : وَيَرْجِعُ أَهْلُ الْغُرَفِ إِلَى غُرَفِهِمْ ، دُرَّةٌ بَيْضَاءُ لَا قَصْمَ فِيهَا وَلَا فَصْمَ ، أَوْ يَاقُوتَةٌ حَمْرَاءُ أَوْ زَبَرْجَدَةٌ خَضْرَاءُ ، مِنْهَا غُرَفُهَا وَأَبْوَابُهَا مُطَّرِدَةٌ ، فِيهَا أَنْهَارُهَا مُتَدَلِّيَةٌ ، فِيهَا ثِمَارُهَا ، فِيهَا أَزْوَاجُهَا وَخَدَمُهَا ، فَلَيْسُوا إِلَى شَيْءٍ أَحْوَجَ مِنْهُمْ إِلَى يَوْمِ الْجُمُعَةِ لِيَزْدَادُوا فِيهِ كَرَامَةً ، وَلِيَزْدَادُوا فِيهِ نَظَرًا إِلَى وَجْهِهِ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَلِذَلِكَ دُعِيَ يَوْمَ الْمَزِيدِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِنَحْوِهِ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ ، وَرِجَالُ أَبِي يَعْلَى رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَابِتِ بْنِ ثَوْبَانَ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ، وَضَعَّفَهُ غَيْرُهُمْ ، وَإِسْنَادُ الْبَزَّارِ فِيهِ خِلَافٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جبرائیل میرے پاس آیا ، اس کے ہاتھ میں سفید آئینہ تھا ، جس میں ایک سیاہ نکتہ موجود تھا ، میں نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیا ہے ؟ اس نے بتایا : یہ جمعہ ہے ، جسے آپ کے پروردگار نے آپ کے سامنے رکھا ہے تاکہ یہ آپ کے لئے اور آپ کے بعد آپ کی قوم کے لئے عید بن جائے ، آپ پہلے ہوں گے ، یہودی اور عیسائی آپ کے بعد ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا ہمارے لئے اس میں کیا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے بتایا : آپ کے لئے اس میں بھلائی ہے ، آپ کے لئے اس میں ایک مخصوص گھڑی ہے ، جو شخص اس گھڑی میں بھلائی کے بارے میں ، اللہ تعالیٰ سے کوئی دعا کرے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ وہ چیز اسے عطا کر دے گا اور اگر وہ چیز اس کے نصیب میں نہ ہوئی تو اللہ تعالیٰ اس دعا کو اس وقت کے لیے سنبھال کے رکھ لے گا ، جب اس شخص کو اس کی زیادہ ضرورت ہو گی ، یا اگر وہ شخص اس گھڑی میں اللہ تعالیٰ کی ، کسی شر سے پناہ مانگے گا ، جو اس کے نصیب میں ہو ، تو اللہ تعالیٰ اسے اس سے زیادہ بڑے شر سے بچا لے گا ۔ میں نے دریافت کیا : اس میں موجود سیاہ نکتہ کیا ہے ؟ جبرائیل نے کہا: یہ قیامت ہے جو جمعہ کے دن قائم ہو گی اور ہمارے نزدیک یہ تمام دنوں کا سردار ہے اور ہم آخرت میں اسے ” یوم مزید “ کہتے ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : میں نے دریافت کیا : تم اسے ” یوم مزید “ کیوں کہتے ہو ؟ سیدنا جبرائیل نے بتایا : آپ کے پروردگار نے جنت میں ایک وادی بنائی ہے ، جو مشک سے بھری ہوئی ہے اور سفید رنگ کی ہے ، جب جمعہ کا دن ہو گا تو آپ کا پروردگار ” علیین “ سے نزول کر کے کرسی پر آئے گا ، اُس کرسی کے اردگرد نور کے بنے ہوئے منبر ہوں گے ، انبیاء کرام تشریف لائیں گے اور ان پر بیٹھ جائیں گے ، پھر ان منبروں کے اردگرد سونے کی بنی ہوئی کرسیاں ہوں گی ، پھر صدیقین اور شہداء آئیں گے اور ان پر بیٹھ جائیں گے پھر اہل جنت آئیں گے اور ٹیلوں پر بیٹھ جائیں گے ، پھر ان کا پروردگار ان کے سامنے تجلی کرے گا اور وہ پروردگار کا دیدار کریں گے پروردگار فرمائے گا : میں وہ ہوں ، جس نے تمہارے ساتھ سچا وعدہ کیا تھا اور تم پر اپنی نعمت کو میں نے مکمل کر دیا ہے ، یہ میری عطا کی ہوئی عزت کا گھر ہے ، تم مجھ سے مانگو ! تو وہ لوگ اس سے رضامندی مانگیں گے ، اللہ تعالیٰ فرمائے گا : میری رضامندی کی وجہ سے ہی میں نے تمہیں اپنی اس جگہ پر ٹھہرایا ہے اور تمہیں یہ عزت عطا کی ہے ، تم مجھ سے کچھ مانگو ! لوگ اس سے مانگیں گے ، یہاں تک کہ ان کی خواہشات ختم ہو جائیں گی ، پھر پروردگار ان کے سامنے وہ چیز کھولے گا جو کسی آنکھ نے دیکھی نہیں ہو گی ، کسی کان نے سنی نہیں ہو گی اور کسی انسان کے دل میں اس کا خیال بھی نہیں آیا ہو گا ، اور ایسا اس وقت تک رہے گا جب لوگ جمعہ کے دن واپس جاتے ہیں ، پھر پروردگار اپنی کرسی پر اوپر چلا جائے گا ، اور اس کے ہمراہ شہداء اور صدیقین بھی چلے جائیں گے ۔ راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” بالاخانوں والے اپنے بالاخانوں کی طرف واپس چلے جائیں گے جو سفید موتی کے بنے ہوئے ہوں گے ، جن میں کوئی ٹوٹنا یا چیرا جانا نہیں ہو گا ، وہ یا سرخ یاقوت کے ، یا سبز زبرجد کے ہوں گے ، ان میں سے ان کے بالاخانے ہوں گے اور ان کے دروازے کھلے ہوں گے ان میں نہریں ہوں گی اور پھل لٹک رہے ہوں گے ، اس میں ان کی بیوی اور ان کے خدمت گار ہوں گے ، تو ان لوگوں کو جمعہ کے دن سے زیادہ اور کسی چیز کی احتیاج نہیں ہو گی ، کیونکہ اس دن میں ان کی کرامت میں اضافہ ہو گا ، اور کیونکہ اس دن وہ اپنے پروردگار کا مزید دیدار کریں گے ، اس وجہ سے اس دن کو ” یوم مزید “ کہا: جاتا ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں اس کی مانند نقل کی ہے امام ابویعلیٰ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ، امام ابویعلیٰ کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، طبرانی کی دو اسانید میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف عبدالرحمن بن ثابت بن ثوبان کا معاملہ مختلف ہے ، ایک سے زیادہ افراد نے اس کی توثیق کی ہے اور دیگر حضرات نے اسے ضعیف قرار دیا ہے ، ہزار کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18771
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح