مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 1876
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " الْوَسِيلَةُ دَرَجَةٌ عِنْدَ اللَّهِ لَيْسَ فَوْقَهَا دَرَجَةٌ ، فَسَلُوا اللَّهَ أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَالَ الطَّبَرَانِيُّ فِيهِ : " فَسَلُوا اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - أَنْ يُؤْتِيَنِي الْوَسِيلَةَ عَلَى خَلْقِهِ " . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” وسیلہ اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں ایک درجہ ہے ، جس کے اوپر اور کوئی درجہ نہیں ہے ، تو تم لوگ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا مانگو کہ وہ مجھے وسیلہ عطا کر دے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، جس میں ضعف پایا جاتا ہے امام طبرانی نے اس روایت میں یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” تم اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کرو کہ وہ مجھے اپنی مخلوق کے حوالے سے وسیلہ عطا کرے “ ۔