حدیث نمبر: 18755
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : حُورٌ عِينٌ قَالَ : " حُورٌ : بِيضٌ ، عِينٌ : ضِخَامٌ، شَفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النَّسْرِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ قَالَ : " صَفَاؤُهُنَّ كَصَفَاءِ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَا تَمَسُّهُ الْأَيْدِي " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ قَالَ : " خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ ، حِسَانُ الْوُجُوهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ قَالَ : " رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ : عُرُبًا أَتْرَابًا ، قَالَ : " هُنَّ اللَّاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ ، رُمْصًا ، شُمْطًا ، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى " . قَالَ : " عُرُبًا : مُعَشَّقَاتٍ ، مُحَبَّبَاتٍ ، أَتْرَابًا : عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ ؟ قَالَ : " نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَبِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " بِصَلَاتِهِنَّ ، وَصِيَامِهِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْبَسَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَهُنَّ النُّورَ ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ، بِيضُ الْأَلْوَانِ ، خُضْرُ الثِّيَابِ ، صُفْرُ الْحُلِيِّ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ ، يَقُلْنَ : أَلَا نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا ، طُوبَى لِمَنْ كُنَّا لَهُ وَكَانَ لَنَا " . ¤ قُلْتُ : الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا ، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ، [ إِنَّهَا ] تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا " . قَالَ : " فَتَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ مَعِي خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ طَرِيقُ الْكَبِيرِ فِي سُورَةِ الرَّحْمَنِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” حورعین “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ گوری چٹی حوریں ہوں گی ، بڑی بڑی آنکھوں والی ہونگی اور حور کی پلکیں باز کے پر جتنی ہونگی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مجھے بتائیے : ” یاقوت اور مرجان ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی نفاست ، اس موتی کی مانند ہو گی جو صدف میں ہوتا ہے ، جسے ہاتھ نہ لگا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” ان میں خوب سیرت اور خوبصورت چہروں والی خواتین ہوں گی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” گویا کہ وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جس طرح وہ جلد باریک ہوتی ہے ، جو انڈے کے اندر ہوتی ہے اور چھلکے کے ساتھ ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” وہ محبت کرنے والی اور ایک ہی عمر کی ہونگی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں ، جن کا دنیا میں انتقال بڑھاپے کے عالم میں ہوا ہو گا ، جبکہ وہ ایسی ہوں گی کہ ان کی آنکھوں میں میل ہو گا اور بال کھچڑی ہوں گے اور پھر ان کے بڑھاپے کے بعد ، اللہ تعالیٰ انہیں یوں بنا دے گا کہ انہیں کنواری اور دلکش دلربا بنا دے گا ، ان سب کی عمریں ایک جتنی ہونگی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ یا حورعین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا کی خواتین ، حورعین سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ، جس طرح کی فضیلت ( لباس کے ) بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر حاصل ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان خواتین کی نماز ، ان کا روزہ اور ان کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ، اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور عطا کرے گا ، ان کے جسموں پر ریشمی کپڑے عطا کرے گا جو مختلف رنگوں کے ہوں گے ، زیور سبز رنگ کے ہوں گے ، انگیٹھیاں موتیوں کی ہوں گی ، کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، وہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہیں گی ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ۔ ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی ( یا پریشانی کا شکار نہیں ہوں گی ) ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے لئے ہم ہوں گی ، اور وہ ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں کوئی عورت ، دو یا تین ، یا چار شادیاں کرتی ہے ، پھر وہ انتقال کر کے جنت میں چلی جاتی ہے ، اور وہ افراد بھی جنت میں چلے جاتے ہیں ، جن کے ساتھ اُس عورت نے ( دنیا میں ) شادی کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ، تو وہ اس شخص کو اختیار کرے گی ، جس نے اس کے ساتھ ( دنیا میں ) سب سے اچھا سلوک کیا ہو گا ، وہ یہ کہے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا کی زندگی میں ، یہ شخص میرے ساتھ سب سے اچھے طریقے سے پیش آیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس سے پہلے معجم کبیر کا طریق سورہ رحمان سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18755
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف