مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ وَغَيْرِهِنَّ . باب: حورعین سے تعلق رکھنے والی اور دیگر جنتی عورتوں کا بیان
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ وَالْمُصَافَحَةِ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " فَبِأَيِّ بَنَانٍ تُعَاطِيهِ ! ، لَوْ أَنَّ بَعْضَ بَنَانِهَا بَدَا لَغَلَبَ ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَلَوْ أَنَّ طَاقَةً مِنْ شِعْرِهَا بَدَتْ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا ، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَةٍ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَيَظُنُّ أَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَلْقِهِ ، فَإِذَا حَوْرَاءُ تُنَادِيهِ : يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ ؟ فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتِ يَا هَذِهِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ، فَيَتَحَوَّلُ عِنْدَهَا ، فَإِذَا عِنْدَهَا مِنَ الْجَمَالِ وَالْكَمَالِ مَا لَيْسَ مَعَ الْأُولَى ، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ ، فَإِذَا حَوْرَاءُ أُخْرَى تُنَادِيهِ : يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ، فَلَا يَزَالُ يَتَحَوَّلُ مِنْ زَوْجَةٍ إِلَى زَوْجَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : آدمی حور کے پاس جائے گا ، تو وہ اس سے گلے مل کر اور مصافحہ کر کے اس کا استقبال کرے گی ، اس کی پوروں کا عالم کیا ہو گا ؟ کہ اگر وہ اس پور کا کچھ حصہ ظاہر کر دے ، تو اس کی روشنی ، سورج اور چاند کی روشنی پر غالب آ جائے ، اور اگر اس کے بال کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری جگہ کو خوشبو کے ذریعے بھر دے ، وہ شخص اس حور کے ساتھ اپنے پلنگ پر بیٹھا ہوا ہو گا ، کہ اسی دوران اسے اوپر کی طرف نور محسوس ہو گا ، تو وہ یہ گمان کرے گا : شاید اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف جھانکا ہے ، تو وہ اصل میں ایک اور حور ہو گی ، جو اسے پکار کر یہ کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ وہ دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ اے خاتون ! وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” اور ہمارے پاس مزید بھی ہے ۔ “ تو وہ شخص پہلی والی حور کے پاس سے اُٹھ کر دوسری کے پاس جائے گا ، اور دوسری کے پاس وہ خوبصورتی ہو گی ، جو پہلی والی کے پاس نہیں ہو گی ، پھر وہ دوسری والی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو گا کہ ایک اور حور اسے پکار کر کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ تو وہ جواب دے گا : اے خاتون ! تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے لئے ، آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے ، جو اس چیز کی جزاء ہے ، جو وہ عمل کیا کرتے تھے ۔ “ تو وہ ایک جنتی بیوی سے دوسری بیوی کی طرف جاتا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔