کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: حورعین سے تعلق رکھنے والی اور دیگر جنتی عورتوں کا بیان
حدیث نمبر: 18754
عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِدْيَمٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ امْرَأَةً مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَشْرَفَتْ [ إِلَى أَهْلِ الْأَرْضِ ] لَمَلَأَتِ الْأَرْضَ رِيحَ مِسْكٍ ، وَلَأَذْهَبَتْ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ مُطَوَّلًا أَطْوَلَ مِنْ هَذَا ، وَقَدْ تَقَدَّمَ فِي صَدَقَةِ التَّطَوُّعِ ، وَرَوَاهُ الْبَزَّارُ بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَفِيهِمَا الْحَسَنُ بْنُ عَنْبَسَةَ الْوَرَّاقُ وَلَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ، وَفِي بَعْضِهِمْ ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعید بن عامر بن حدیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر اہل جنت کی خواتین میں سے کوئی عورت ، اہل زمین کی طرف جھانک لے تو تمام روئے زمین کو مشک کی خوشبو سے بھر دے گی ، اور وہ سورج اور چاند کی روشنی کو ماند کر دے گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نفلی صدقہ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ، ایک راوی حسن بن عنبسہ وراق ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے اس سے زیادہ طویل روایت کے طور پر نقل کی ہے ، جو اس سے پہلے نفلی صدقہ کرنے سے متعلق باب میں گزر چکی ہے ،
یہ روایت امام بزار نے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ان دونوں کی سند میں ، ایک راوی حسن بن عنبسہ وراق ہے اور میں اس سے واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں اور ان میں سے بعض میں ضعف پایا جاتا ہے ۔
حدیث نمبر: 18755
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : حُورٌ عِينٌ قَالَ : " حُورٌ : بِيضٌ ، عِينٌ : ضِخَامٌ، شَفْرُ الْحَوْرَاءِ بِمَنْزِلَةِ جَنَاحِ النَّسْرِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - : كَأَنَّهُنَّ الْيَاقُوتُ وَالْمَرْجَانُ قَالَ : " صَفَاؤُهُنَّ كَصَفَاءِ الدُّرِّ الَّذِي فِي الْأَصْدَافِ الَّذِي لَا تَمَسُّهُ الْأَيْدِي " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِ اللَّهِ : فِيهِنَّ خَيْرَاتٌ حِسَانٌ قَالَ : " خَيْرَاتُ الْأَخْلَاقِ ، حِسَانُ الْوُجُوهِ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ تَعَالَى : كَأَنَّهُنَّ بَيْضٌ مَكْنُونٌ قَالَ : " رِقَّتُهُنَّ كَرِقَّةِ الْجِلْدِ الَّذِي فِي دَاخِلِ الْبَيْضَةِ مِمَّا يَلِي الْقِشْرَ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَأَخْبِرْنِي عَنْ قَوْلِهِ : عُرُبًا أَتْرَابًا ، قَالَ : " هُنَّ اللَّاتِي قُبِضْنَ فِي دَارِ الدُّنْيَا عَجَائِزَ ، رُمْصًا ، شُمْطًا ، خَلَقَهُنَّ اللَّهُ بَعْدَ الْكِبَرِ فَجَعَلَهُنَّ عَذَارَى " . قَالَ : " عُرُبًا : مُعَشَّقَاتٍ ، مُحَبَّبَاتٍ ، أَتْرَابًا : عَلَى مِيلَادٍ وَاحِدٍ " . ¤ قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ أَمِ الْحُورُ الْعِينُ ؟ قَالَ : " نِسَاءُ الدُّنْيَا أَفْضَلُ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ كَفَضْلِ الظِّهَارَةِ عَلَى الْبِطَانَةِ " . قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، وَبِمَ ذَاكَ ؟ قَالَ : " بِصَلَاتِهِنَّ ، وَصِيَامِهِنَّ لِلَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - أَلْبَسَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - وُجُوهَهُنَّ النُّورَ ، وَأَجْسَادَهُنَّ الْحَرِيرَ، بِيضُ الْأَلْوَانِ ، خُضْرُ الثِّيَابِ ، صُفْرُ الْحُلِيِّ، مَجَامِرُهُنَّ الدُّرُّ ، وَأَمْشَاطُهُنَّ الذَّهَبُ ، يَقُلْنَ : أَلَا نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُوتُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ النَّاعِمَاتُ فَلَا نَبْأَسُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا نَظْعَنُ أَبَدًا ، أَلَا وَنَحْنُ الرَّاضِيَاتُ فَلَا نَسْخَطُ أَبَدًا ، طُوبَى لِمَنْ كُنَّا لَهُ وَكَانَ لَنَا " . ¤ قُلْتُ : الْمَرْأَةُ مِنَّا تَتَزَوَّجُ الزَّوْجَيْنِ وَالثَّلَاثَةَ وَالْأَرْبَعَةَ فِي الدُّنْيَا، ثُمَّ تَمُوتُ فَتَدْخُلُ الْجَنَّةَ وَيَدْخُلُونَ مَعَهَا ، مَنْ يَكُونُ زَوْجَهَا مِنْهُمْ ؟ قَالَ : " يَا أُمَّ سَلَمَةَ، [ إِنَّهَا ] تُخَيَّرُ فَتَخْتَارُ أَحْسَنَهُمْ خُلُقًا " . قَالَ : " فَتَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِنَّ هَذَا كَانَ أَحْسَنَهُمْ مَعِي خُلُقًا فِي دَارِ الدُّنْيَا فَزَوِّجْنِيهِ ، يَا أُمَّ سَلَمَةَ ذَهَبَ حُسْنُ الْخُلُقِ بِخَيْرِ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ طَرِيقُ الْكَبِيرِ فِي سُورَةِ الرَّحْمَنِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا سُلَيْمَانُ بْنُ أَبِي كَرِيمَةَ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” حورعین “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ گوری چٹی حوریں ہوں گی ، بڑی بڑی آنکھوں والی ہونگی اور حور کی پلکیں باز کے پر جتنی ہونگی ، میں نے عرض کی یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں مجھے بتائیے : ” یاقوت اور مرجان ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کی نفاست ، اس موتی کی مانند ہو گی جو صدف میں ہوتا ہے ، جسے ہاتھ نہ لگا ہو ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” ان میں خوب سیرت اور خوبصورت چہروں والی خواتین ہوں گی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان کے اخلاق بہتر ہوں گے اور چہرے خوبصورت ہوں گے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” گویا کہ وہ چھپے ہوئے انڈے ہیں ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : وہ اتنی باریک ہوں گی ، جس طرح وہ جلد باریک ہوتی ہے ، جو انڈے کے اندر ہوتی ہے اور چھلکے کے ساتھ ہوتی ہے ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ مجھے اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کے بارے میں بتائیے : ” وہ محبت کرنے والی اور ایک ہی عمر کی ہونگی “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ وہ خواتین ہیں ، جن کا دنیا میں انتقال بڑھاپے کے عالم میں ہوا ہو گا ، جبکہ وہ ایسی ہوں گی کہ ان کی آنکھوں میں میل ہو گا اور بال کھچڑی ہوں گے اور پھر ان کے بڑھاپے کے بعد ، اللہ تعالیٰ انہیں یوں بنا دے گا کہ انہیں کنواری اور دلکش دلربا بنا دے گا ، ان سب کی عمریں ایک جتنی ہونگی ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا دنیا کی خواتین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ یا حورعین زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : دنیا کی خواتین ، حورعین سے زیادہ فضیلت رکھتی ہیں ، جس طرح کی فضیلت ( لباس کے ) بیرونی حصے کو اندرونی حصے پر حاصل ہوتی ہے ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ان خواتین کی نماز ، ان کا روزہ اور ان کا اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ، اللہ تعالیٰ ان کے چہروں کو نور عطا کرے گا ، ان کے جسموں پر ریشمی کپڑے عطا کرے گا جو مختلف رنگوں کے ہوں گے ، زیور سبز رنگ کے ہوں گے ، انگیٹھیاں موتیوں کی ہوں گی ، کنگھیاں سونے کی ہوں گی ، وہ کہیں گی : خبردار ! ہم ہمیشہ رہیں گی ، ہمیں کبھی موت نہیں آئے گی ۔ ہم نعمتوں والی ہیں ، ہم کبھی غمگین نہیں ہوں گی ( یا پریشانی کا شکار نہیں ہوں گی ) ہم مقیم رہنے والی ہیں ، ہم کبھی بوڑھی نہیں ہوں گی ، ہم راضی رہنے والی ہیں ، ہم کبھی ناراض نہیں ہوں گی ، اس شخص کے لئے مبارکباد ہے ، جس کے لئے ہم ہوں گی ، اور وہ ہمارے لئے ہو گا ۔ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! دنیا میں کوئی عورت ، دو یا تین ، یا چار شادیاں کرتی ہے ، پھر وہ انتقال کر کے جنت میں چلی جاتی ہے ، اور وہ افراد بھی جنت میں چلے جاتے ہیں ، جن کے ساتھ اُس عورت نے ( دنیا میں ) شادی کی تھی ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے ام سلمہ ! اس عورت کو اختیار دیا جائے گا ، تو وہ اس شخص کو اختیار کرے گی ، جس نے اس کے ساتھ ( دنیا میں ) سب سے اچھا سلوک کیا ہو گا ، وہ یہ کہے گی : اے میرے پروردگار ! دنیا کی زندگی میں ، یہ شخص میرے ساتھ سب سے اچھے طریقے سے پیش آیا تھا ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ) ” اے ام سلمہ ! اچھے اخلاق ، دنیا اور آخرت کی ساری بھلائی لے گئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس سے پہلے معجم کبیر کا طریق سورہ رحمان سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور معجم کبیر میں اس کی مانند نقل کی ہے اس سے پہلے معجم کبیر کا طریق سورہ رحمان سے متعلق باب میں گزر چکا ہے ، ان دونوں کی سند میں ایک راوی سلیمان بن ابوکریمہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18756
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : حَدَّثَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " حَدَّثَنِي جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - قَالَ : يَدْخُلُ الرَّجُلُ عَلَى الْحَوْرَاءِ فَتَسْتَقْبِلُهُ بِالْمُعَانَقَةِ وَالْمُصَافَحَةِ " . قَالَ رَسُولُ اللَّهِ : " فَبِأَيِّ بَنَانٍ تُعَاطِيهِ ! ، لَوْ أَنَّ بَعْضَ بَنَانِهَا بَدَا لَغَلَبَ ضَوْءُهُ ضَوْءَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ ، وَلَوْ أَنَّ طَاقَةً مِنْ شِعْرِهَا بَدَتْ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ مِنْ طِيبِ رِيحِهَا ، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَةٍ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ، فَيَظُنُّ أَنَّ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - قَدْ أَشْرَفَ عَلَى خَلْقِهِ ، فَإِذَا حَوْرَاءُ تُنَادِيهِ : يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ ؟ فَيَقُولُ : مَنْ أَنْتِ يَا هَذِهِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ تَعَالَى : وَلَدَيْنَا مَزِيدٌ ، فَيَتَحَوَّلُ عِنْدَهَا ، فَإِذَا عِنْدَهَا مِنَ الْجَمَالِ وَالْكَمَالِ مَا لَيْسَ مَعَ الْأُولَى ، فَبَيْنَا هُوَ مُتَّكِئٌ مَعَهَا عَلَى أَرِيكَتِهِ إِذْ أَشْرَفَ عَلَيْهِ نُورٌ مِنْ فَوْقِهِ ، فَإِذَا حَوْرَاءُ أُخْرَى تُنَادِيهِ : يَا وَلِيَّ اللَّهِ أَمَا لَنَا فِيكَ مِنْ دُولَةٍ ؟ فَيَقُولُ : وَمَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ اللَّوَاتِي قَالَ اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - : فَلَا تَعْلَمُ نَفْسٌ مَا أُخْفِيَ لَهُمْ مِنْ قُرَّةِ أَعْيُنٍ جَزَاءً بِمَا كَانُوا يَعْمَلُونَ ، فَلَا يَزَالُ يَتَحَوَّلُ مِنْ زَوْجَةٍ إِلَى زَوْجَةٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ سَعِيدُ بْنُ زَرْبِيٍّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے یہ بات بتائی کہ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے مجھے یہ بات بتائی ہے : وہ بیان کرتے ہیں : آدمی حور کے پاس جائے گا ، تو وہ اس سے گلے مل کر اور مصافحہ کر کے اس کا استقبال کرے گی ، اس کی پوروں کا عالم کیا ہو گا ؟ کہ اگر وہ اس پور کا کچھ حصہ ظاہر کر دے ، تو اس کی روشنی ، سورج اور چاند کی روشنی پر غالب آ جائے ، اور اگر اس کے بال کا کچھ حصہ ظاہر ہو جائے تو وہ مشرق و مغرب کے درمیان ساری جگہ کو خوشبو کے ذریعے بھر دے ، وہ شخص اس حور کے ساتھ اپنے پلنگ پر بیٹھا ہوا ہو گا ، کہ اسی دوران اسے اوپر کی طرف نور محسوس ہو گا ، تو وہ یہ گمان کرے گا : شاید اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کی طرف جھانکا ہے ، تو وہ اصل میں ایک اور حور ہو گی ، جو اسے پکار کر یہ کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ وہ دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ اے خاتون ! وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں ، جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : ” اور ہمارے پاس مزید بھی ہے ۔ “ تو وہ شخص پہلی والی حور کے پاس سے اُٹھ کر دوسری کے پاس جائے گا ، اور دوسری کے پاس وہ خوبصورتی ہو گی ، جو پہلی والی کے پاس نہیں ہو گی ، پھر وہ دوسری والی کے ساتھ ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا ہو گا کہ ایک اور حور اسے پکار کر کہے گی : اے اللہ کے دوست ! کیا آپ ہمیں خدمت کا موقع نہیں دیں گے ؟ تو وہ جواب دے گا : اے خاتون ! تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی : میں ان حوروں میں سے ہوں جن کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا ہے : ” کوئی شخص یہ نہیں جانتا کہ اس کے لئے ، آنکھوں کی ٹھنڈک کے لئے کیا پوشیدہ رکھا گیا ہے ، جو اس چیز کی جزاء ہے ، جو وہ عمل کیا کرتے تھے ۔ “ تو وہ ایک جنتی بیوی سے دوسری بیوی کی طرف جاتا رہے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی سعید بن زربی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18757
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوِ اطَّلَعَتِ امْرَأَةٌ مِنْ نِسَاءِ أَهْلِ الْجَنَّةِ إِلَى الْأَرْضِ لَمَلَأَتْ مَا بَيْنَهُمَا رِيحًا ، وَلَأَضَاءَتْ مَا بَيْنَهُمَا ، وَلَتَاجُهَا عَلَى رَأْسِهَا خَيْرٌ مِنَ الدُّنْيَا وَمَا فِيهَا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اگر اہل جنت کی خواتین میں سے کوئی ایک زمین کی طرف جھانک لے ، تو وہ ان دونوں کے درمیان موجود جگہ کو خوشبو سے بھر دے گی ، اور ان دونوں کے درمیان موجود جگہ کو روشنی سے بھر دے گی اور اس کے سر پر موجود اُس کا تاج دنیا اور اس میں موجود ( ساری چیزوں ) سے بہتر ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔
حدیث نمبر: 18758
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ الْمَرْأَةَ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ لَيُرَى مُخُّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ اللَّحْمِ وَالْعَظْمِ مِنْ تَحْتِ سَبْعِينَ حُلَّةً ، كَمَا يُرَى الشَّرَابُ الْأَحْمَرُ فِي الزُّجَاجَةِ الْبَيْضَاءِ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَسَقَطَ مِنْ إِسْنَادِهِ رَجُلَانِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حورعین سے تعلق رکھنے والی عورت کی پنڈلی کا گودا ، گوشت اور ہڈی کے پار سے بھی نظر آ جائے گا ، جو ستر حلوں کے نیچے ہو گی ، جس طرح سفید شیشے میں موجود سرخ مشروب میں سے نظر آ جاتا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو افراد کا ذکر ساقط ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں دو افراد کا ذکر ساقط ہے ۔
حدیث نمبر: 18759
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " مَا مِنْ عَبْدٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ إِلَّا وَعِنْدَ رَأْسِهِ وَعِنْدَ رِجْلَيْهِ ثِنْتَانِ مِنَ الْحُورِ الْعِينِ ، يُغَنِّيَانِ بِأَحْسَنِ صَوْتٍ سَمِعَهُ الْإِنْسُ وَالْجِنُّ ، وَلَيْسَ بِمَزَامِيرِ الشَّيْطَانِ، وَلَكِنْ بِتَحْمِيدِ اللَّهِ وَتَقْدِيسِهِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جو بھی بندہ جنت میں داخل ہو گا ، جب وہ بیٹھے گا تو اس کے سرہانے کی طرف اور اس کے پائینتی کی طرف دو ، دو حورعین موجود ہو گی ، جو اتنی عمدہ آواز میں گائیں گی ، جو سب سے زیادہ خوبصورت آواز ، انسانوں یا جنات نے سنی ہو ، لیکن وہ شیطان کے مزامیر نہیں ہوں گے ، بلکہ اللہ تعالیٰ کی حمد اور اس کی تقدیس ہو گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں ۔
حدیث نمبر: 18760
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ أَزْوَاجَ الْجَنَّةِ لَيُغَنِّينَ أَزْوَاجَهُنَّ بِأَحْسَنِ أَصْوَاتٍ سَمِعَهَا أَحَدٌ قَطُّ ، إِنَّ مِمَّا يُغَنِّينَ : نَحْنُ الْخَيْرَاتُ الْحِسَانْ ، أَزْوَاجُ قَوْمٍ كِرَامْ . يَنْظُرْنَ بِقُرَّةِ أَعْيَانْ . وَإِنَّ مِمَّا يُغَنِّينَ بِهِ : نَحْنُ الْخَالِدَاتُ فَلَا نَمُتْنَهْ ، نَحْنُ الْآمِنَاتُ فَلَا يَخَفْنَهْ ، نَحْنُ الْمُقِيمَاتُ فَلَا يَظْعَنَّهْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الصَّغِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت کی بیویاں اپنے شوہروں کے لیے ایسی آواز میں گائیں گی ، جو سب سے زیادہ خوبصورت آواز کسی نے کبھی بھی سنی ہو ، وہ جو گائیں گی اُن میں یہ کلمات بھی ہیں : ” ہم خوبصورت چہروں والی ہیں اور معزز لوگوں کی بیویاں ہیں ، جو آنکھوں کی ٹھنڈک کے ہمراہ دیکھتی ہیں ۔ “ جو وہ گائیں گی ، اُن میں یہ کلمات بھی ہوں گے : ” ہم ہمیشہ رہنے والی ہیں ، جنہیں موت نہیں آئے گی ، ہم امان میں رہنے والی ہیں ، جو خوف زدہ نہیں ہو گی ، ہم مقیم رہنے والی ہیں ، جو رخصت نہیں ہوں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم صغیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18761
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الْحُورَ فِي الْجَنَّةِ يُغَنِّينَ يَقُلْنَ : نَحْنُ الْحُورُ الْحِسَانْ ، هُدِينَا لِأَزْوَاجٍ كِرَامْ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جنت میں حور گائے گی اور یہ کہے گی : ” ہم خوبصورت حوریں ہیں ، جو معزز شوہروں کو تحفے کے طور پر دی گئی ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18762
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ الرَّجُلَ لَيَتَّكِئُ فِي الْجَنَّةِ سَبْعِينَ سَنَةً قَبْلَ أَنْ يَتَحَوَّلَ ، ثُمَّ تَأْتِيهِ امْرَأَتُهُ [ فَتَضْرِبُ عَلَى مِنْكَبَيْهِ ] فَيَنْظُرُ وَجْهَهُ فِي خَدِّهَا أَصْفَى مِنَ الْمِرْآةِ ، وَإِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ عَلَيْهَا تُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ، فَتُسَلِّمُ عَلَيْهِ فَيَرُدُّ السَّلَامَ ، وَيَسْأَلُهَا : مَنْ أَنْتِ ؟ فَتَقُولُ : أَنَا مِنَ الْمَزِيدِ ، وَإِنَّهُ لَيَكُونُ عَلَيْهَا سَبْعُونَ ثَوْبًا ، أَدْنَاهَا مِثْلُ النُّعْمَانِ مِنْ طُوبَى ، فَيُنْفِذُهَا بَصَرُهُ حَتَّى يَرَى مُخَّ سَاقِهَا مِنْ وَرَاءِ ذَلِكَ ، وَإِنَّ عَلَيْهَا مِنَ التِّيجَانِ إِنَّ أَدْنَى لُؤْلُؤَةٍ مِنْهَا لَتُضِيءُ مَا بَيْنَ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ ] " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَأَبُو يَعْلَى ، وَإِسْنَادُهُمَا حَسَنٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” ایک آدمی جنت میں ٹیک لگا کے بیٹھے گا اور وہاں سے اُٹھنے سے پہلے ستر سال تک بیٹھا رہے گا ، پھر اس کی بیوی اس کے پاس آئے گی اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھے گی ، وہ شخص اس عورت کے رخسار میں اپنے چہرے کو دیکھ لے گا ، جو آئینے سے زیادہ صاف ہو گا ، اس عورت کے جسم پر موجود سب سے ہلکا موتی بھی ایسا ہو گا کہ وہ مشرق اور مغرب کے درمیان موجود ساری جگہ کو روشن کر دے ، وہ عورت اُس شخص کو سلام کرے گی ، وہ سلام کا جواب دے گا اور اس سے دریافت کرے گا : تم کون ہو ؟ وہ جواب دے گی : میں ” مزید “ میں سے ہوں ، عورت کے جسم پر ستر کپڑے ہوں گے ، جن میں سے سب سے ہلکا طوبی میں سے نعمان کی مانند ہو گا ، وہ شخص نگاہ اٹھا کر اس کی طرف دیکھے گا تو ان کپڑوں کے پار سے اس کی پنڈلی کا گودا بھی اسے نظر آ جائے گا اور اس عورت کے سر پر تاج ہو گا ، جس کا سب سے ہلکا موتی بھی ، مشرق اور مغرب کے درمیان موجود ساری جگہ کو روشن کر سکے گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند حسن ہے ۔
حدیث نمبر: 18763
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " خَلَقَ [ اللَّهُ ] الْحُورَ الْعِينِ مِنَ الزَّعْفَرَانِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ضُعَفَاءُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اللہ تعالیٰ نے حورعین کو زعفران سے پیدا کیا ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند میں ضعیف راوی ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے اور ان دونوں کی سند میں ضعیف راوی ہیں ۔