مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ ابْنِ مَسْعُودٍ أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ : مِنَ الْجَفَاءِ أَرْبَعَةٌ : أَنْ يَسْمَعَ الْمُؤَذِّنُ يَقُولُ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، أَشْهَدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ - فَلَا يَقُولُ مِثْلَ مَا يَقُولُ . وَأَنْ يَمْسَحَ وَجْهَهُ قَبْلَ أَنْ يَقْضِيَ صَلَاتَهُ . وَأَنْ يَبُولَ قَائِمًا ، وَأَنْ يُصَلِّيَ وَلَيْسَ بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْقِبْلَةِ شَيْءٌ يَسْتُرُهُ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَالْمُسَيَّبُ بْنُ رَافِعٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ ابْنِ مَسْعُودٍ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے : وہ یہ فرماتے ہیں : چار چیزیں جفا کا حصہ ہیں یہ کہ آدمی مؤذن کو الله اكبر الله اكبر أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا الله کہتے ہوئے سنے اور پھر جو وہ کہہ رہا ہے ، اس کی مانند نہ کہے ، اور یہ کہ آدمی نماز مکمل کرنے سے پہلے اپنے چہرے کو پونچھ لے ( یعنی مٹی وغیرہ صاف کر لے ) اور یہ کہ آدمی کھڑا ہو کر پیشاب کرے اور یہ کہ آدمی یوں نماز ادا کرے کہ اس کے اور قبلہ کے درمیان کوئی ایسی چیز نہ ہو جو اس کے لئے سترہ بن رہی ہو “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے مسیب بن رافع نامی راوی نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے سماع نہیں کیا ہے ۔