مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى قَالَ : كَانَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ إِذَا سَمِعَ الْمُؤَذِّنَ يُؤَذِّنُ قَالَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِذَا قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ - قَالَ عَلِيٌّ : أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ، وَأَنَّ الَّذِينَ جَحَدُوا مُحَمَّدًا هُمُ الْكَاذِبُونَ . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ فِي زِيَادَتِهِ ، وَفِيهِ أَبُو سَعِيدٍ عَنْ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤عبدالرحمن بن ابولیلی بیان کرتے ہیں : سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ جب مؤذن کو اذان دیتے ہوئے سنتے تھے تو وہی کلمات پڑھتے تھے جو وہ پڑھتا تھا جب وہ أَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ پڑھتا تھا تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہ پڑھتے تھے اَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهَ وَأَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُول اللہ اور ساتھ میں کہتے تھے جن لوگوں نے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا انکار کیا وہ لوگ جھوٹے ہیں ۔
یہ روایت امام عبداللہ نے اپنی زیادات میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ بات مذکور ہے ، اسے ابوسعید نامی راوی نے ابن ابولیلی سے نقل کیا ہے ۔ میں نے کسی کو اس کا ( یعنی ابوسعید نامی راوی ) کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔