مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
حدیث نمبر: 1872
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَرَّسَ ذَاتَ لَيْلَةٍ ، فَأَذَّنَ بِلَالٌ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَنْ قَالَ مِثْلَ مَقَالَتِهِ ، وَشَهِدَ مِثْلَ شَهَادَتِهِ - فَلَهُ الْجَنَّةُ " . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَفِيهِ يَزِيدُ الرَّقَاشِيُّ ضَعَّفَهُ شُعْبَةُ وَغَيْرُهُ ، وَوَثَّقَهُ ابْنُ عَدِيٍّ وَابْنُ مَعِينٍ فِي رِوَايَةٍ . ¤محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت پڑاؤ کیا سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نے اذان دی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جو شخص اس کے کلمات کی مانند پڑھے گا ، اور اس کی گواہی کی مانند گواہی دے گا اسے جنت نصیب ہو گی “ ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یزید رقاشی ہے ، جسے شعبہ اور دیگر حضرات نے ضعیف قرار دیا ہے ، جب کہ ابن عدی نے اور ایک روایت کے مطابق یحیی بن معین نے اسے ” ثقہ “ کہا: ہے ۔