مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ إِجَابَةِ الْمُؤَذِّنِ ، وَمَا يَقُولُ عِنْدَ الْأَذَانِ وَالْإِقَامَةِ . باب: مؤذن کو جواب دینا ، غیر اذان اور اقامت کے وقت کیا پڑھا جائے ؟
وَعَنْ مَيْمُونَةَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَامَ بَيْنَ صَفِّ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ فَقَالَ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، إِذَا سَمِعْتُنَّ أَذَانَ هَذَا الْحَبَشِيِّ وَإِقَامَتَهُ فَقُلْنَ كَمَا يَقُولُ ، فَإِنَّ لَكُنَّ بِكُلِّ حَرْفٍ أَلْفَ أَلْفِ دَرَجَةٍ " . قَالَ عُمَرُ : هَذَا لِلنِّسَاءِ ، فَمَاذَا لِلرِّجَالِ ؟ قَالَ : " ضِعْفَانِ يَا عُمَرُ " . ¤ قُلْتُ : وَيَأْتِي بِتَمَامِهِ فِي حَقِّ الزَّوْجِ عَلَى الْمَرْأَةِ فِي النِّكَاحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِإِسْنَادَيْنِ ، فِي أَحَدِهِمَا عَبْدُ اللَّهِ الْجَزَرِيُّ عَنْ مَيْمُونَةَ وَلَمْ أَعْرِفْهُ . وَعَبَّادُ بْنُ كَثِيرٍ وَفِيهِ ضَعْفٌ ، وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ ، وَالْإِسْنَادُ الْآخَرُ فِيهِ جَمَاعَةٌ لَمْ أَعْرِفْهُمْ . ¤سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مردوں اور خواتین کی صفوں کے درمیان کھڑے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے خواتین کے گروہ جب تم اس حبشی کی آواز سنو اور اس کی اقامت سنو تو وہی کلمات پڑھو جو یہ پڑھتا ہے کیونکہ ہر ایک حرف کے عوض میں ہزار ہزار ( یعنی دس لاکھ ) درجات کا ثواب ملے گا ۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یہ فضیلت تو خواتین کے لئے ہے مردوں کے لئے کیا حکم ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اے عمر ! اس کا دگنا ۔ میں یہ کہتا ہوں : یہ حدیث مکمل روایت کے طور پر نکاح سے متعلق باب میں عورت پر شوہر کے حق سے متعلق باب میں آئے گی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں دو اسناد کے ساتھ نقل کی ہے جن میں سے ایک سند میں یہ مذکور ہے ، اسے جزری نے سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے نقل کیا ہے اور میں اس شخص سے واقف نہیں ہوں عباد بن کثیر نامی راوی میں ضعف پایا جاتا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” ثقہ “ ہیں جب کہ دوسری سند میں ایک جماعت ایسی ہے جن لوگوں سے میں واقف نہیں ہوں ۔