حدیث نمبر: 18713
وَعَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ رَبِّي أَعْطَانِي سَبْعِينَ أَلْفًا مِنْ أُمَّتِي يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ عُمَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ ؟ قَالَ : " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي مَعَ كُلِّ رَجُلٍ سَبْعِينَ أَلْفًا " . قَالَ عُمَرُ : فَهَلَّا اسْتَزَدْتَهُ ؟ قَالَ : " قَدِ اسْتَزَدْتُهُ فَأَعْطَانِي هَكَذَا " وَفَرَّجَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بَيْنَ يَدَيْ ، قَالَ عَبْدُ اللَّهِ : وَبَسَطَ بَاعَيْهِ ، وَحَثَا عَبْدُ اللَّهِ ، وَقَالَ هِشَامٌ : وَهَذَا مِنَ اللَّهِ ، لَا نَدْرِي مَا عَدَدُهُ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ بِنَحْوِهِ ، [ وَالطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ] وَفِي أَسَانِيدِهِمُ الْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُبَيْدٍ ، وَمُوسَى بْنُ عُبَيْدٍ هَذَا هُوَ مَوْلَى خَالِدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أُسَيْدٍ ، ذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ ، وَالْقَاسِمُ بْنُ مِهْرَانَ ذَكَرَهُ الذَّهَبِيُّ فِي الْمِيزَانِ ، وَأَنَّهُ لَمْ يَرْوِ عَنْهُ إِلَّا سُلَيْمُ بْنُ عَمْرٍو النَّخَعِيُّ ، وَلَيْسَ كَذَلِكَ ، فَقَدْ رَوَى عَنْهُ هَذَا الْحَدِيثَ هِشَامُ بْنُ حَسَّانَ ، وَبَاقِي إِسْنَادِهِ مُحْتَجٌّ بِهِمْ فِي الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبدالرحمن بن ابوبکر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” میرے پروردگار نے میری امت میں سے ستر ہزار ایسے لوگ مجھے عطا کیے ہیں ، جو حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ نے مزید کی دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے مزید کی دعا کی ، تو اس نے مجھے ہر ایک فرد کے ہمراہ ستر ہزار لوگ عطا کر دیے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: آپ نے مزید کے بارے میں دعا کیوں نہیں کی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اس سے مزید مانگا ، تو اس نے مجھے اس طرح عطا کیا ۔ یہاں عبداللہ بن ابوبکر نامی راوی نے اپنے آگے کشادگی کی ، اور عبداللہ نے یہ کہا: ہے : انہوں نے اپنے دونوں بازو پھیلا دیئے اور عبداللہ نے لپ بنایا ( یعنی دونوں ہتھیلیاں جوڑ لیں ) ہشام نے یہ کہا: ہے : یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور اس کی تعداد کا پتہ نہیں چل سکتا ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے امام بزار نے اس کی مانند نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان کی اسانید میں یہ بات مذکور ہے : یہ قاسم بن مہران کے حوالے سے موسیٰ بن عبید سے منقول ہے اور موسیٰ بن عبید نامی یہ راوی ، خالد بن عبداللہ بن اسید کا غلام ہے ، ابن حبان نے اس کا تذکرہ کتاب الشقات میں کیا ہے اور قاسم بن مہران کا ذکر امام ذہبی نے ” میزان الاعتدال “ میں کیا ہے ، اس کے حوالے سے صرف سلیم بن عمرو نخعی نے روایات نقل کی ہیں ، حالانکہ ایسا نہیں ہے ، کیونکہ ہشام بن حسان نے اس سے یہ حدیث روایت کی ہے ، اس کی سند کے بقیہ رجال سے صحیح میں استدلال کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18713
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن ولکن عند الشواھد حدیث صحیح، ولہ شاہد
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3546) اخرجه احمد فى المسند (170)»