مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِذَا وَقَفَ الْعِبَادُ لِلْحِسَابِ جَاءَ قَوْمٌ وَاضِعِي سُيُوفِهِمْ عَلَى رِقَابِهِمْ تَقْطُرُ دَمًا ، فَازْدَحَمُوا عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَقِيلَ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ قِيلَ : الشُّهَدَاءُ كَانُوا أَحْيَاءً مُرْزَقِينَ ، ثُمَّ نَادَى مُنَادٍ : لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ [ الْجَنَّةَ ، ثُمَّ نَادَى الثَّالِثَةَ : لِيَقُمْ مَنْ أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ الْجَنَّةَ ، قَالَ : وَمَنْ ذَا الَّذِي أَجْرُهُ عَلَى اللَّهِ فَلْيَدْخُلِ ] الْجَنَّةَ ، فَقَامَ كَذَا وَكَذَا أَلْفًا فَدَخَلُوهَا بِغَيْرِ حِسَابٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا عَلَى ضَعْفٍ يَسِيرٍ فِي بَعْضِهِمْ . قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثُ حُذَيْفَةَ وَغَيْرِهِ فِي فَضْلِ الْأُمَّةِ فِي أَوَاخِرِ كِتَابِ الْمَنَاقِبِ . ¤سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جب بندے حساب کے لئے کھڑے ہوں گے تو کچھ لوگ آئیں گے ، جنہوں نے اپنی گردنوں پر تلواریں رکھی ہوئی ہوں گی اُن کے خون کے قطرے گر رہے ہوں گے ، وہ جنت کے دروازے پر ہجوم کریں گے ، دریافت کیا جائے گا : یہ کون ہیں ؟ تو بتایا جائے گا : یہ شہداء ہیں ، جو زندہ تھے اور جنہیں رزق دیا جاتا تھا ، پھر ایک منادی پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور جنت میں داخل ہو جائے ، پھر وہ تیسری مرتبہ پکار کر یہ کہے گا : وہ شخص کھڑا ہو جائے ، جس کا اجر اللہ تعالیٰ کے ذمہ ہے اور وہ جنت میں داخل ہو جائے ، وہ کہے گا : جو کوئی بھی ایسا ہے جس کا اجر اللہ کے ذمہ ہو ، وہ جنت میں داخل ہو جائے ، تو اتنے ہزار ہزار لوگ کھڑے ہو جائیں گے اور وہ حساب کے بغیر اس میں داخل ہو جائیں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے اگرچہ ان میں سے کچھ میں کچھ ضعف پایا جاتا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے سیدنا حذیفہ رضی اللہ عنہ ہوا اور دیگر حضرات کی نقل کردہ حدیث گزر چکی ہے جو کتاب المناقب کے آخر میں ، اس امت کی فضیلت سے متعلق باب میں ہے ۔