مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ عَامِرِ بْنِ عُمَيْرٍ قَالَ : لَبِثَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثَلَاثًا لَا يَخْرُجُ إِلَى صَلَاةٍ مَكْتُوبَةٍ ، فَقِيلَ لَهُ فِي ذَلِكَ ، فَقَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ رَبِّي مَاجِدًا كَرِيمًا ، أَعْطَانِي مَعَ كُلِّ وَاحِدٍ مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ الَّذِينَ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، فَقُلْتُ : إِنَّ أُمَّتِي لَا تَبْلُغُ هَذَا أَوْ تُكْمِلُ هَذَا ، فَقَالَ : أُكْمِلُهُمْ لَكَ مِنَ الْأَعْرَابِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ شَيْخِ الطَّبَرَانِيِّ ، وَاضْطَرَبَ فِي اسْمِ صَحَابِيِّهِ فَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقِيلَ : عُمَيْرُ بْنُ عَمْرٍو ، وَقِيلَ : عُمَارَةُ بْنُ عُمَيْرٍ ، وَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ حَزْمٍ ، وَقِيلَ : عَمْرُو بْنُ بِلَالٍ . ¤سیدنا عامر بن عمیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تین دن تک ٹھہرے رہے ، آپ فرض نماز کے لئے تشریف نہیں لائے ، آپ سے اس بارے میں بات چیت کی گئی تو آپ نے ارشاد فرمایا : میں نے اپنے پروردگار کو بزرگی والا ، کرم کرنے والا پایا ہے ، اس نے مجھے ستر ہزار لوگ ، جو کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، ان میں سے ہر ایک کے ہمراہ مزید ( 10 ) ( 7 ) ہزار لوگ عطا کیے ہیں ، میں نے عرض کی : میری امت اس تعداد تک نہیں پہنچے گی ، یا اس کو مکمل کر دے گی ؟ تو اس نے فرمایا : میں دیہاتیوں کے ذریعے تمہارے لئے ان کو مکمل کر دوں گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں صرف امام طبرانی کے استاد کا معاملہ مختلف ہے اور اس روایت میں صحابی کے نام کے بارے میں بھی اضطراب پایا جاتا ہے ، ایک قول کے مطابق ان کا نام سیدنا عمرو بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمیر بن عمرو ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمارہ بن عمیر ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن حزم ہے اور ایک قول کے مطابق سیدنا عمرو بن بلال ہے ۔