مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : آيَةٌ ، وَنَحْنُ فِي فَارِعٍ يَوْمَئِذٍ ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ ، وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي لِلنَّاسِ ، قُلْتُ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ فَقَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " . - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ - . قُلْتُ : حَدِيثُ أَسْمَاءَ فِي الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ وَغَيْرِهِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَزَادَ الطَّبَرَانِيُّ : قَالَتْ : رَقِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - الْمِنْبَرَ فَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّ الشَّمْسَ وَالْقَمَرَ آيَتَانِ مِنْ آيَاتِ اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - لَا يَنْخَسِفَانِ لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَيَاتِهِ ، فَإِذَا رَأَيْتُمْ ذَلِكَ فَافْزَعُوا إِلَى الصَّلَاةِ ، وَالصَّدَقَةِ ، وَذِكْرِ اللَّهِ ، وَقَدْ رَأَيْتُ مِنْكُمْ خَمْسِينَ أَلْفًا - أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا - يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَذَكَرَ نَحْوَهُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیده اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی آواز کی گونج سنی ، وہ کہہ رہے تھے : نشانی ( ظاہر ہوئی ہے ) ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ” فارع“ میں موجود تھے ، میں نے سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر کو لپیٹا اور نکل کھڑی ہوئی ، میں عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد راوی نے پوری روایت ذکر کی ہے جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں نے پچاس ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ جنت میں داخل ہوں گے ، تو چودہویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے : انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: اے اللہ ! تو اس کو اُن میں شامل کر دے ( پھر آپ نے فرمایا : ) میرے منبر سے نیچے اترنے تک تم مجھ سے جس چیز کے بارے میں بھی سوال کرو گے ، میں تمہیں اس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، آپ نے اسی شخص کا ذکر کیا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کے بارے میں سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا کی نقل کردہ حدیث ” صحیح“ اور دیگر کتابوں میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم منبر پر چڑھے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے لوگو ! بے شک شخص سورج اور چاند ، اللہ تعالیٰ کی نشانیوں میں سے دو نشانیاں ہیں ، یہ دونوں کسی کے مرنے یا جینے کی وجہ سے گرہن نہیں ہوتے ہیں ، جب تم ان کو ( گرہن کی حالت میں ) دیکھو تو نماز اور صدقہ اور اللہ کے ذکر کی طرف جاؤ ، میں نے تم میں سے پچاس ہزار افراد ( رادی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار افراد کو دیکھا کہ وہ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ اس کے بعد راوی نے حسب سابق حدیث ذکر کی ہے اور ان دونوں کے رجال ثقہ ہیں ۔