مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَبْطَأَ ذَاتَ لَيْلَةٍ عَنْ صَلَاةِ الْعِشَاءِ ، حَتَّى ذَهَبَ هَوْيًا مِنَ اللَّيْلِ ، حَتَّى نَامَ بَعْضُ مَنْ كَانَ فِي الْمَسْجِدِ ، فَخَرَجَ وَالنَّاسُ بَيْنَ نَائِمٍ ، وَبَيْنَ مُصَلٍّ مُنْتَظِرٍ لِلصَّلَاةِ ، فَقَالَ : " أَمَا إِنَّ النَّاسَ لَمْ يَزَالُوا فِي صَلَاةٍ مَا انْتَظَرُوهَا ، لَوْلَا ضَعْفُ الْكَبِيرِ ، وَبُكَاءُ الصَّغِيرِ ، لَأَخَّرْتُ الْعِشَاءَ إِلَى عَتَمَةٍ مِنَ اللَّيْلِ " . ¤ ثُمَّ قَالَ : " يَدْخُلُ الْجَنَّةَ سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ " . قَالَ : وَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - تَذَاكَرْنَا السَّبْعِينَ بَيْنَنَا ، أَتُرَاهُمُ الشُّهَدَاءَ ؟ فَقَالَ بَعْضُنَا : هُمُ الشُّهَدَاءُ ، وَقَالَ بَعْضُنَا : هُمُ الْمُؤْمِنُونَ . فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا تَذَاكَرُونَ ؟ " . فَأَخْبَرْنَاهُ فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرِقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُجَالِدِ بْنِ سَعِيدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : ایک رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے عشاء کی نماز میں تاخیر کر دی ، یہاں تک کہ رات کا ایک بڑا حصہ رخصت ہو گیا ، یہاں تک کہ مسجد میں موجود بعض لوگ سو گئے ، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے ، تو کچھ لوگ سو رہے تھے اور کچھ نماز ادا کر رہے تھے اور وہ سب نماز کے منتظر تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” لوگ جب تک نماز کے منتظر رہتے ہیں وہ مسلسل نماز کی حالت میں شمار ہوتے ہیں ، اگر بڑی عمر کے لوگوں کی کمزوری اور بچوں کے رونے کا خیال نہ ہوتا تو میں عشاء کی نماز کو رات کا ایک حصہ گزرنے تک مؤخر کر دیتا ۔ “ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں ستر ہزار ایسے لوگ داخل ہوں گے ، جن سے حساب نہیں لیا جائے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر تشریف لے گئے ، جب آپ گھر تشریف لے گئے ، تو ہم آپس میں بیٹھ کر ان ستر ہزار لوگوں کے بارے میں بات کرنے لگے کہ کیا وہ لوگ شہداء ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : وہ شہداء ہوں گے ، کچھ کا کہنا تھا : وہ لوگ مومنین ہوں گے ، اسی دوران ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے آئے ، آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیا گفتگو کر رہے ہو ؟ ہم نے آپ کو اس بارے میں بتایا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ وہ لوگ ہوں گے ، جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ “ ”
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف مجالد بن سعید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔