مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ قَالَ : مَرِضَ ثَوْبَانُ بِحِمْصَ ، وَعَلَيْهَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ قُرْطٍ الْأَزْدِيُّ ، فَلَمْ يَعُدْهُ ، فَدَخَلَ عَلَى ثَوْبَانَ رَجُلٌ مِنَ الْكَلَاعِيِّينَ عَائِدًا ، فَقَالَ لَهُ ثَوْبَانُ : أَتَكْتُبُ ؟ قَالَ : نَعَمْ . فَقَالَ : اكْتُبْ ، فَكَتَبَ لِلْأَمِيرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ : مِنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمَّا بَعْدُ : فَلَوْ كَانَ لِمُوسَى وَعِيسَى - عَلَيْهِمَا السَّلَامُ - مَوْلًى بِحَضْرَتِكَ لَعُدْتُهُ . ثُمَّ طَوَى الْكِتَابَ وَقَالَ لَهُ : أَبْلِغْهُ إِيَّاهُ ، قَالَ : نَعَمْ . فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ بِكِتَابِهِ فَدَفَعَهُ إِلَى ابْنِ قُرْطٍ ، فَلَمَّا قَرَأَهُ قَامَ فَزِعًا ، فَقَالَ النَّاسُ : مَا لَهُ ؟ أَحَدَثَ أَمْرٌ ؟ فَأَتَى ثَوْبَانَ حَتَّى دَخَلَ عَلَيْهِ فَعَادَهُ ، وَجَلَسَ عِنْدَهُ سَاعَةً ، ثُمَّ قَامَ ، فَأَخَذَ ثَوْبَانُ بِرِدَائِهِ، وَقَالَ : اجْلِسْ حَتَّى أُحَدِّثَكَ حَدِيثًا سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " لَيَدْخُلَنَّ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي سَبْعُونَ أَلْفًا لَا حِسَابَ عَلَيْهِمْ وَلَا عَذَابَ ، مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعُونَ أَلْفًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ بِاخْتِصَارٍ . ¤شریح بن عبید بیان کرتے ہیں : ” حمص “ میں سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیمار ہو گئے اس شہر کا گورنر عبداللہ بن قرط ازدی تھا ، وہ اُن کی عیادت کے لیے نہیں آیا ، ایک مرتبہ کلاعیین میں سے دو افراد سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کی عیادت کرنے کے لیے آئے تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے ان سے دریافت کیا : کیا تم لکھ سکتے ہو ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے فرمایا : تم لکھو ! پھر انہوں نے گورنر عبداللہ بن قرط کے لیے یہ تحریر لکھوائی : ” یہ اللہ کے رسول کے غلام ، ثوبان کی طرف سے ہے ، امابعد ! اگر تمہارے علاقے میں سیدنا موسیٰ علیہ السلام ، یا سیدنا عیسیٰ علیہ السلام کا کوئی غلام ہوتا تو تم نے اس کی عیادت کر لینی تھی ۔ “ پھر انہوں نے تحریر کو لپیٹ دیا اور اس سے فرمایا : تم یہ گورنر تک پہنچا دینا ، اس نے کہا: ٹھیک ہے ، پھر وہ شخص اس مکتوب کو لے کر گیا اور اس نے گورنر کے حوالے وہ کیا ، جب گورنر نے اسے پڑھا تو وہ گھبرا کر کھڑا ہو گیا ، لوگوں نے دریافت کیا : اس کو کیا ہوا ہے ؟ کیا کوئی نئی صورتحال سامنے آئی ہے ؟ گورنر ، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، ان کی عیادت کی اور ان کے پاس گھڑی بھر بیٹھا رہا ، جب وہ اُٹھنے لگا تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے اس کی چادر پکڑ لی اور یہ فرمایا : تم بیٹھ جاؤ ! تاکہ میں تمہیں وہ حدیث سناؤں جو میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے ، میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” میری امت کے ستر ہزار لوگ جنت میں یوں داخل ہوں گے کہ اُن سے حساب لیا جائے گا ، اور نہ انہیں کوئی عذاب ہو گا اور ان میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ مزید ستر ہزار ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور امام طبرانی نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔