حدیث نمبر: 18694
وَعَنْ أَبِي أَيُّوبَ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - خَرَجَ ذَاتَ يَوْمٍ إِلَيْهِمْ ، فَقَالَ لَهُمْ : " إِنَّ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - خَيَّرَنِي بَيْنَ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ ، وَبَيْنَ الْخَبِيئَةِ عِنْدَهُ لِأُمَّتِي " . فَقَالَ لَهُ بَعْضُ أَصْحَابِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيُخَبِّئُ ذَلِكَ رَبُّكَ ؟ فَدَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ثُمَّ خَرَجَ ، وَهُوَ يُكَبِّرُ، فَقَالَ : " إِنَّ رَبِّي زَادَنِي مَعَ كُلِّ أَلْفٍ سَبْعِينَ أَلْفًا ، وَالْخَبِيئَةُ عِنْدَهُ " . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ ، وَهُوَ مَذْكُورٌ فِي الشَّفَاعَةِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا ضَعْفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کے پاس تشریف لائے ، آپ نے ان سے فرمایا : میرے پروردگار نے مجھے اس بارے میں اختیار دیا ہے کہ ستر ہزار لوگ جنت میں کسی حساب کے بغیر داخل ہو جائیں ، یا پھر میری اُمت کے لئے پروردگار کے پاس ایک چیز ( یعنی شفاعت ) سنبھال کے رکھی جائے ، آپ کے اصحاب میں سے کسی نے آپ کی خدمت میں عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ کا پروردگار اسے سنبھال کے رکھے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گھر کے اندر تشریف لے گئے ، پھر آپ باہر تشریف لائے اور آپ تکبیر کہہ رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : میرے پروردگار نے ، اُن میں سے ہر ایک ہزار کے ہمراہ ، مزید 70 ہزار بھی عطا کئے ہیں ، اور اپنے پاس سنبھال کے رکھی ہوئی چیز ( یعنی شفاعت ) بھی عطا کی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے جو شفاعت سے متعلق باب میں مذکور ہے ، یہ روایت امام أحمد اور امام طبرانی نے نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں ضعف پایا جاتا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18694
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف