مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ . باب: اس کا بیان ، جو جنت میں حساب کے بغیر داخل ہو گا
وَعَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَخَّرَ الظُّهْرَ إِلَى آخِرِ الْوَقْتِ ، ثُمَّ خَرَجَ فَصَلَّى ، ثُمَّ قَالَ : " رَأَيْتُ فِيمَا يَرَى النَّائِمُ أَنَّ الْأُمَمَ عُرِضَتْ عَلَيَّ ، فَكَانَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَجِيءُ فِي خَمْسَةٍ أَوْ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ ، فَرَأَيْتُ جَمَاعَةً كَثِيرَةً فَقُلْتُ : إِنَّهَا أُمَّتِي ؟ فَقِيلَ : هَذِهِ أُمَّةُ مُوسَى . وَرَأَيْتُ عِيسَى ابْنَ مَرْيَمَ أَبْيَضَ جَعْدًا ، يَضْرِبُ إِلَى الْحُمْرَةِ ، وَرَأَيْتُ - وَذَكَرَ كَلَامًا كَأَنَّ مَعْنَاهُ عَدَدٌ كَثِيرٌ - فَقِيلَ : إِنَّهَا أُمَّتُكَ ، وَقِيلَ : إِنَّ لَكَ مَعَهُمْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ وَلَا عَذَابٍ " . ¤ فَقَالَ عُكَاشَةُ الْأَسَدِيُّ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي فِي هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ ، فَقَالَ : " أَنْتَ مِنْهُمْ " . فَقَالَ آخَرُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، اجْعَلْنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ " . فَقَالَ الْقَوْمُ : مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ ؟ فَقَالَ بَعْضُهُمْ : مَنْ رَقَّ قَلْبُهُ لِلْإِسْلَامِ ، وَقَالَ بَعْضُهُمْ : قَوْمٌ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ لَمْ يُشْرِكُوا ، أَوْ لَمْ يَعْبُدُوا شَيْئًا إِلَّا اللَّهَ . وَارْتَفَعَتْ أَصْوَاتُهُمْ ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " مَا هَذِهِ الْأَصْوَاتُ ؟ " . فَقَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، السَّبْعِينَ الَّذِينَ ذَكَرْتَ مَنْ هُمْ ؟ قَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ عَنْ شَيْخِهِ : عُمَرَ بْنِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مُجَالِدٍ ، وَهُوَ مُجْمَعٌ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ظہر کی نماز آخری وقت تک مؤخر کر دی ، پھر آپ تشریف لائے ، آپ نے نماز پڑھائی ، پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” میں نے خواب میں دیکھا کہ میرے سامنے امتیں پیش کی گئیں ، کوئی نبی پانچ افراد کے ساتھ آیا ، کوئی اس سے زیادہ کے ساتھ تھا ، پھر میں نے ایک بڑی جماعت کو دیکھا تو میں نے سوچا یہ میری امت ہو گی ، تو بتایا گیا : یہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام کی امت ہے ، پھر میں نے سیدنا عیسیٰ بن مریم علیہ السلام کو دیکھا ، وہ سفید رنگت کے سیدھے بالوں کے مالک شخص تھے ، ان کا رنگ سرخی مائل تھا ، اور میں نے دیکھا ، راوی کہتے ہیں : اس کے بعد ایسے الفاظ ہیں ، جن کا مفہوم یہ بنتا ہے کہ میں نے ایک بڑی تعداد کو دیکھا ، تو بتایا گیا : یہ آپ کی امت ہے ، اور یہ بھی بتایا گیا کہ ان کے ہمراہ قیامت میں ستر ہزار ایسے لوگ ہوں گے جو کسی حساب اور عذاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ۔ “ تو سیدنا عکاشہ اسدی رضی اللہ عنہ نے کہا: یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان ستر ( ہزار ) لوگوں میں شامل کروا دیں ( یعنی میرے لیے اس بارے میں دعا کریں ) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ان میں سے ایک ہو ، ایک اور صاحب بولے : یا رسول اللہ ! آپ مجھے ان میں شامل کروا دیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ حاضرین نے ( بعد میں ایک دوسرے سے ) کہا: آپ لوگوں کی کیا رائے ہے کہ یہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کسی نے کہا: یہ وہ ہوں گے جن کا دل اسلام کے لیے نرم ہو گا ، بعض نے کہا: یہ وہ لوگ ہوں گے جو مومنین ہوں گے اور انہوں نے کبھی شرک نہیں کیا ہو گا اور اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کی ہو گی ، اُن لوگوں کی آوازیں بلند ہوئیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے ، آپ نے دریافت کیا : یہ آوازیں کس وجہ سے تھیں ؟ لوگوں نے بتایا : یا رسول اللہ ! ہم ان ستر ہزار لوگوں کا ذکر کر رہے تھے کہ وہ کون ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگائیں گے اور جھاڑ پھونک نہیں کریں گے اور فال نہیں نکالیں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کریں گے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے اپنے استاد عمر بن اسماعیل بن مجالد کے حوالے سے نقل کی ہے اور اس کے ضعیف ہونے پر اتفاق ہے ۔