حدیث نمبر: 18692
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : أَكْثَرْنَا الْحَدِيثَ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ذَاتَ لَيْلَةٍ ، ثُمَّ غَدَوْنَا إِلَيْهِ فَقَالَ : " عُرِضَتْ عَلَيَّ الْأَنْبِيَاءُ اللَّيْلَةَ بِأُمَمِهَا ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الثَّلَاثَةُ ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ الْعِصَابَةُ ، وَالنَّبِيُّ يَمُرُّ وَمَعَهُ النَّفَرُ ، وَالنَّبِيُّ لَيْسَ مَعَهُ أَحَدٌ ، حَتَّى مَرَّ عَلَيَّ مُوسَى - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - مَعَهُ كَبْكَبَةٌ مِنْ بَنِي إِسْرَائِيلَ ، فَأَعْجَبُونِي فَقُلْتُ : مَنْ هَؤُلَاءِ ؟ فَقِيلَ : هَذَا أَخُوكَ مُوسَى مَعَهُ بَنُو إِسْرَائِيلَ " . ¤ قَالَ : " فَقُلْتُ : فَأَيْنَ أُمَّتِي ؟ فَقِيلَ لِي : انْظُرْ عَنْ يَمِينِكَ ، فَنَظَرْتُ فَإِذَا الْأُفُقُ قَدْ سُدَّ بِوُجُوهِ الرِّجَالِ ، فَقِيلَ لِي : أَرَضِيتَ ؟ فَقُلْتُ : رَضِيتُ ، رَبِّ " . قَالَ : " فَقِيلَ لِي : إِنَّ مَعَ هَؤُلَاءِ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ بِغَيْرِ حِسَابٍ " . فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " فِدًى لَكُمْ أَبِي وَأُمِّي ، إِنِ اسْتَطَعْتُمْ أَنْ تَكُونُوا مِنَ السَّبْعِينَ الْأَلْفِ فَافْعَلُوا ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الضِّرَابِ ، فَإِنْ قَصَّرْتُمْ فَكُونُوا مِنْ أَهْلِ الْأُفُقِ ، فَإِنِّي قَدْ رَأَيْتُ ثَمَّ نَاسًا يَتَهَاوَشُونَ " . فَقَامَ عُكَاشَةُ بْنُ مِحْصَنٍ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ لِي يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنَ السَّبْعِينَ ، فَدَعَا لَهُ ، فَقَامَ رَجُلٌ آخَرُ ، فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، فَقَالَ : " سَبَقَكَ بِهَا عُكَاشَةُ " . ¤ ثُمَّ تَحَدَّثْنَا فَقُلْنَا : مَنْ تَرَوْنَ هَؤُلَاءِ السَّبْعِينَ الْأَلْفَ ؟ فَقَالَ : قَوْمٌ وُلِدُوا فِي الْإِسْلَامِ ، ثُمَّ لَمْ يُشْرِكُوا بِاللَّهِ شَيْئًا حَتَّى مَاتُوا ، فَبَلَغَ ذَلِكَ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " هُمُ الَّذِينَ لَا يَكْتَوُونَ ، وَلَا يَسْتَرْقُونَ ، وَلَا يَتَطَيَّرُونَ ، وَعَلَى رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ بِأَسَانِيدَ ، وَالْبَزَّارُ أَتَمُّ مِنْهُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو يَعْلَى بِاخْتِصَارٍ كَثِيرٍ ، وَأَحَدُ أَسَانِيدِ أَحْمَدَ ، وَالْبَزَّارِ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک رات ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کافی دیر تک بات چیت کرتے رہے ، اگلے دن جب ہم آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے ارشاد فرمایا : گزشتہ رات میرے سامنے انبیاء اور ان کی امتیں پیش کیے گئے کوئی نبی گزرا ، اس کے ساتھ تین افراد تھے ، کوئی گزرا اُس کے ساتھ ایک جماعت تھی ، کسی کے ساتھ زیادہ تعداد تھی ، کسی کے ساتھ کوئی بھی نہیں تھا ، یہاں تک کہ سیدنا موسیٰ علیہ السلام میرے پاس سے گزرے تو ان کے ساتھ بنی اسرائیل کی ایک بڑی جماعت تھی ، وہ مجھے اچھی لگی ، میں نے کہا: یہ کون ہے ؟ تو بتایا گیا : یہ آپ کے بھائی سیدنا موسیٰ علیہ السلام ہیں اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل ہیں ، میں نے کہا: میری امت کہاں ہے ؟ تو مجھ سے کہا: گیا : آپ اپنے دائیں طرف دیکھیے ، جب میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں سے افق بھر چکا تھا ، مجھ سے کہا: گیا : آپ اپنے بائیں طرف دیکھیے ، میں نے دیکھا تو لوگوں کے چہروں کے ذریعے افق بھر چکا تھا ، مجھے کہا: گیا : کیا آپ راضی ہو گئے ہیں ؟ میں نے کہا: اے میرے پروردگار ! میں راضی ہو گیا ہوں ، تو مجھ سے کہا: گیا : ان لوگوں کے ہمراہ ستر ہزار لوگ کسی حساب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرے ماں باپ تم لوگوں پر قربان ہوں ، اگر تم سے ہو سکے تو تم ان ستر ہزار افراد میں شامل ہونا اور اگر تم کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو اہل ظراب ( ٹیلے والوں ) میں شامل ہو جانا اور اگر تم مزید کوتاہی کے مرتکب ہو جاؤ تو تم افق والے لوگوں میں شامل ہو جانا ، کیونکہ میں نے وہاں لوگوں کو دیکھا ہے کہ وہ بہت زیادہ تعداد میں تھے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو سیدنا عکاشہ بن محصن رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے میرے لیے دعا کیجئے کہ وہ مجھے ستر ہزار افراد میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعا کر دی ، پھر ایک اور صاحب کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کیجئے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس حوالے سے عکاشہ تم پر سبقت لے گیا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : پھر ہم اس بارے میں بات چیت کرنے لگے کہ وہ ستر ہزار لوگ کون ہوں گے ؟ کچھ کا کہنا تھا : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو زمانہ اسلام میں پیدا ہوئے اور پھر انہوں نے مرتے دم تک کسی کو اللہ کا شریک قرار نہیں دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی اطلاع ملی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہ وہ لوگ ہوں گے جو داغ نہیں لگاتے ہوں گے ، جھاڑ پھونک نہیں کرتے ہوں گے ، فال نہیں نکالتے ہوں گے اور اپنے پروردگار پر توکل کرتے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے مختلف اسانید کے ساتھ نقل کی ہے ، امام بزار نے اس کو اس سے زیادہ مکمل روایت کے طور پر نقل کیا ہے ، امام طبرانی اور امام ابویعلیٰ نے اسے بہت زیادہ اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے امام أحمد اور امام بزار کی مختلف اسانید میں سے ، ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح