مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت سے تعلق رکھنے والے ، جنت مین داخل ہونے والے افراد کی کثرت کا مزید بیان
وَعَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - وَعَدَنِي أَنْ يُدْخِلَ الْجَنَّةَ مِنْ أُمَّتِي ثَلَاثَمِائَةِ أَلْفٍ " . فَقَالَ عُمَيْرٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ : " هَكَذَا " . فَقَالَ عُمَيْرٌ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، زِدْنَا ، فَقَالَ عُمَرُ : حَسْبُكَ يَا عُمَيْرُ ! فَقَالَ : مَا لَنَا وَلَكَ يَا ابْنَ الْخَطَّابِ ؟ وَمَا عَلَيْكَ أَنْ يُدْخِلَنَا اللَّهُ الْجَنَّةَ ؟ فَقَالَ عُمَرُ : إِنَّ اللَّهَ إِنْ شَاءَ أَدْخَلَ النَّاسَ الْجَنَّةَ بِحَفْنَةٍ - أَوْ حَثْيَةٍ - وَاحِدَةٍ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ عَمَرُ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عُمَيْرٍ لَمْ أَعْرِفْهُ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ابوبکر بن عمیر ، اپنے والد کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” بے شک اللہ تعالیٰ نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا ہے کہ وہ میری امت کے تین لاکھ افراد کو جنت میں داخل کرے گا ۔ “ سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ ہمارے لئے مزید کریں ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس طرح ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! ہمارے لئے مزید کریں ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے عمیر ! تمہارے لئے اتنا کافی ہے ، سیدنا عمیر رضی اللہ عنہ نے کہا: اے ابن خطاب ! ہمارا اور آپ کا کیا واسطہ ؟ اور اگر اللہ تعالیٰ ہمیں جنت میں داخل کر دے گا ، تو آپ کو کیا مسئلہ ہے ؟ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: بے شک اللہ تعالیٰ اگر چاہے تو سب لوگوں کو ایک ہی لپ کے ذریعے جنت میں داخل کر سکتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : عمر نے ٹھیک کہا: ہے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے ابوبکر بن عمیر نامی راوی سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ۔