مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ ثَانٍ مِنْهُ فِي كَثْرَةِ مَنْ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ . باب: اس امت سے تعلق رکھنے والے ، جنت مین داخل ہونے والے افراد کی کثرت کا مزید بیان
وَعَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ قَالَتْ : خُسِفَتِ الشَّمْسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَسَمِعْتُ رَجَّةَ النَّاسِ وَهُمْ يَقُولُونَ : آيَةٌ وَنَحْنُ يَوْمَئِذٍ فِي فَارِعٍ ، فَخَرَجْتُ مُتَلَفِّعَةً بِقَطِيفَةٍ لِلزُّبَيْرِ حَتَّى دَخَلْتُ عَلَى عَائِشَةَ وَرَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَائِمٌ يُصَلِّي بِالنَّاسِ . قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : " وَقَدْ رَأَيْتُ خَمْسِينَ أَوْ سَبْعِينَ أَلْفًا يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ فِي مِثْلِ صُورَةِ الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ ، قَالَ : " اللَّهُمَّ اجْعَلْهُ مِنْهُمْ ، أَيُّهَا النَّاسُ ، إِنَّكُمْ لَنْ تَسْأَلُونِي عَنْ شَيْءٍ حَتَّى أَنْزِلَ إِلَّا أَخْبَرْتُكُمْ بِهِ " . فَقَامَ رَجُلٌ فَقَالَ : مَنْ أَبِي ؟ قَالَ : " أَبُوكَ فُلَانٌ " - لِلَّذِي كَانَ يُنْسَبُ إِلَيْهِ - . قُلْتُ : قِصَّةُ الْكُسُوفِ فِي الصَّحِيحِ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ مُحَمَّدِ بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤سیدہ اسماء بنت ابوبکر رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں سورج گرہن ہو گیا ، میں نے لوگوں کی گونج سنی ، وہ یہ کہہ رہے تھے : ایک نشانی ظاہر ہوئی ہے ، سیدہ اسماء رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : ہم اس وقت ( مدینہ منورہ کے ایک قلعے ) ” فارع “ میں تھے ، میں سیدنا زبیر رضی اللہ عنہ کی چادر اوڑھ کر نکلی اور عائشہ کے پاس آئی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس وقت لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث روایت نقل کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے دیکھا ، پچاس ہزار ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) ستر ہزار لوگ جنت میں داخل ہوں گے اور وہ چودھویں رات کے چاند کی مانند ہوں گے ، ایک صاحب کھڑے ہوئے ، انہوں نے عرض کی : آپ اللہ تعالیٰ سے یہ دعا کریں کہ وہ مجھے ان میں شامل کر دے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی ، اے اللہ ! تو اسے ان میں شامل کر دے ، اے لوگو ! میرے ( منبر سے ) نیچے اترنے سے پہلے تم مجھ سے جس بھی چیز کے بارے میں دریافت کرو گے ، میں تمہیں اُس کے بارے میں بتا دوں گا ، ایک شخص کھڑا ہوا ، اس نے دریافت کیا : میرا باپ کون ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارا باپ فلاں ہے ، یہ وہی شخص تھا ، جس کی طرف اس کی نسبت کی جاتی تھی ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سورج گرہن کا واقعہ ” صحیح “ میں مذکور ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف محمد بن عباس بن عبداللہ بن زبیر کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔