حدیث نمبر: 18672
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " إِنَّ آخِرَ رَجُلٍ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ : رَجُلٌ يَتَقَلَّبُ عَلَى الصِّرَاطِ ظَهْرًا لِبَطْنٍ ، كَالْغُلَامِ يَضْرِبُهُ أَبُوهُ ، وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ يَعْجَزُ عَنْ عَمَلِهِ أَنْ يَسْعَى ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، بَلِّغْ بِي إِلَى الْجَنَّةِ ، وَنَجِّنِي مِنَ النَّارِ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي ، إِنْ نَجَّيْتُكَ مِنَ النَّارِ ، وَأَدْخَلْتُكَ الْجَنَّةَ أَتَعْتَرِفُ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ ؟ فَيَقُولُ الْعَبْدُ : نَعَمْ يَا رَبِّ ، وَعِزَّتِكَ وَجَلَالِكَ ، لَئِنْ نَجَّيْتَنِي مِنَ النَّارِ لَأَعْتَرِفَنَّ لَكَ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ ، فَيَجُوزُ الْجِسْرَ ، وَيَقُولُ الْعَبْدُ فِيمَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ نَفْسِهِ : لَئِنِ اعْتَرَفْتُ بِذُنُوبِي وَخَطَايَايَ لَيَرُدُّنِي إِلَى النَّارِ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي اعْتَرِفْ لِي بِذُنُوبِكَ وَخَطَايَاكَ أَغْفِرْهَا لَكَ ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ ، فَيَقُولُ الْعَبْدُ [ لَا ] : وَعَزَّتِكَ ، مَا أَذْنَبْتُ ذَنْبًا قَطُّ ، وَلَا أَخْطَأْتُ خَطِيئَةً قَطُّ ، فَيُوحِي اللَّهُ إِلَيْهِ : عَبْدِي ، إِنَّ لِي عَلَيْكَ بَيِّنَةً ، فَيَلْتَفِتُ الْعَبْدُ يَمِينًا وَشِمَالًا ، فَلَا يَرَى أَحَدًا فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَرِنِي بَيِّنَتَكَ ، فَيُنْطِقُ اللَّهُ جِلْدَهُ بِالْمُحَقَّرَاتِ ، فَإِذَا رَأَى ذَلِكَ الْعَبْدُ يَقُولُ : يَا رَبِّ عِنْدِي وَعَزَّتِكَ الْمُضْمَرَاتُ ، فَيُوحِي اللَّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - إِلَيْهِ : عَبْدِي ، أَنَا أَعْرَفُ بِهَا مِنْكَ ، اعْتَرِفْ لِي بِهَا أَغْفِرْهَا لَكَ ، وَأُدْخِلْكَ الْجَنَّةَ ، فَيَعْتَرِفُ الْعَبْدُ بِذُنُوبِهِ فَيُدْخِلُهُ الْجَنَّةَ، ثُمَّ ضَحِكَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى بَدَتْ نَوَاجِذُهُ ، يَقُولُ : هَذَا أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، فَكَيْفَ بِالَّذِي فَوْقَهُ ؟ ! " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ مَنْ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَضُعَفَاءُ فِيهِمْ تَوْثِيقٌ لَيِّنٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں داخل ہونے والا آخری شخص وہ ہو گا جو پل صراط پر یوں لوٹ رہا ہو گا ، جیسے کسی لڑکے کی اس کا باپ پٹائی کرے اور وہ لڑکا اس سے بھاگنا چاہتا ہو ، اس شخص کا عمل اسے اس قابل نہیں رہنے دے گا کہ وہ دوڑ سکے ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت تک پہنچا دے اور مجھے جہنم سے نجات دیدے ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! اگر میں نے تجھے جہنم سے نجات دیدی اور میں نے تجھے جنت میں داخل کر دیا ، تو کیا تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے گا ؟ بندہ جواب دے گا : جی ہاں ! اے میرے پروردگار ! تیری عزت اور تیرے جلال کی قسم ہے ! اگر تو نے مجھے جہنم سے نجات عطا کر دی تو میں تیرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لوں گا ، وہ پل صراط کو پار کر لے گا ، پھر وہ شخص یہ سوچے گا اگر میں نے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لیا ، تو اللہ تعالیٰ مجھے جہنم کی طرف واپس بھیج دے گا ، اللہ تعالیٰ اس بندے کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تو میرے سامنے اپنے گناہوں اور خطاؤں کا اعتراف کر لے تاکہ میں تیری مغفرت کر دوں اور تجھے جنت میں داخل کر دوں ، تو بندہ کہے گا : جی نہیں ! تیری عزت کی قسم ! میں نے کبھی کسی گناہ کا ارتکاب نہیں کیا اور میں نے کبھی کوئی خطا نہیں کی ، تو اللہ تعالیٰ اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! تمہارے خلاف میرے پاس ایک ثبوت ہے ، وہ بندہ اپنے دائیں بائیں دیکھے گا ، اُسے کوئی نظر نہیں آئے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو اپنا ثبوت مجھے دکھا ، تو اللہ تعالیٰ اس کی جلد کو گویائی عطا کرے گا ، تو وہ حقیر سمجھے جانے والے گناہوں کا اعتراف کرے گی ، جب بندہ یہ صورتحال دیکھے گا تو وہ یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری عزت کی قسم میرے کچھ ایسے گناہ بھی ہیں ، جو پوشیدہ ہیں ، تو پروردگار اس کی طرف یہ وحی کرے گا : اے میرے بندے ! میں ان کے بارے میں تم سے زیادہ بہتر جانتا ہوں ، تم میرے سامنے ان کے حوالے سے اعتراف کر لو ، میں ان کے حوالے سے تمہاری مغفرت کر دوں گا اور تمہیں جنت میں داخل کر دوں گا ، تو بندہ اپنے گناہوں کا اعتراف کر لے گا اور اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کر دے گا ۔ “ راوی بیان کرتے ہیں : پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہنس پڑے ، یہاں تک کہ آپ کے اطراف کے دانت نظر آنے لگے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ اس شخص کا حال ہے جو اہل جنت میں سب سے کم تر مرتبہ کا ہو گا ، تو اس کا کیا حال ہو گا ؟ جو اس سے اوپر ہو گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایسے راوی ہیں ، جن سے میں واقف نہیں ہوں اور ان میں ضعیف راوی ہیں جن کی کمزور توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18672
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7669)»