مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، وَآخِرِ مَنْ يَدْخُلُونَهَا . باب: قدر و منزلت کے اعتبار سے ، سب سے کم مقام والے جنتی کا بیان اور ( اہل جنت میں سے ) کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا ؟
وَعَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : إِنَّ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا الْجَنَّةَ : رَجُلٌ مَرَّ بِهِ رَبُّهُ - عَزَّ وَجَلَّ - فَقَالَ لَهُ : قُمْ . فَادْخُلِ الْجَنَّةَ ، فَأَقْبَلَ عَلَيْهِ عَابِسًا ، فَقَالَ : وَهَلْ أَبْقَيْتَ لِي شَيْئًا ؟ قَالَ : نَعَمْ . لَكَ مِثْلُ مَا طَلَعَتْ عَلَيْهِ الشَّمْسُ أَوْ غَرَبَتْ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ هُبَيْرَةَ بْنِ مَرْيَمَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤ قُلْتُ : وَقَدْ تَقَدَّمَ حَدِيثٌ طَوِيلٌ صَحِيحٌ رَوَاهُ ابْنُ مَسْعُودٍ ذَكَرْتُهُ فِي بَابٍ جَامِعٍ فِي الْبَعْثِ ، وَهُوَ أَبْيَنُ مِنْ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ” جنت میں داخل ہونے والا آخری فرد وہ ہو گا جس کے پاس سے اس کا پروردگار گزرے گا اور اس سے فرمائے گا : تم اُٹھو اور جنت میں داخل ہو جاؤ ، تو وہ ماتھے پر بل ڈال کر اس کی طرف متوجہ ہو گا اور کہے گا : کیا تو نے میرے لیے کوئی چیز باقی رہنے دی ہے ؟ پروردگار فرمائے گا : جی ہاں ! تمہیں اس کی مانند ملتا ہے ، جس پر سورج طلوع یا غروب ہوتا تھا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف ہبیرہ بن یریم کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس سے پہلے ایک ” صحیح “ طویل حدیث گزر چکی ہے جسے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے روایت کیا ہے ، میں نے اُسے باب : دوبارہ زندہ کیے جانے ( سے متعلق روایات ) کا مجموعہ میں ذکر کیا ہے اور وہ ان روایات سے زیادہ واضح ہے ۔