مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب أهل الجنة— اہل جنت کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَدْنَى أَهْلِ الْجَنَّةِ مَنْزِلَةً ، وَآخِرِ مَنْ يَدْخُلُونَهَا . باب: قدر و منزلت کے اعتبار سے ، سب سے کم مقام والے جنتی کا بیان اور ( اہل جنت میں سے ) کون سب سے آخر میں اس میں داخل ہو گا ؟
وَعَنْ عَوْفِ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " قَدْ عَلِمْتُ آخِرَ أَهْلِ الْجَنَّةِ دُخُولًا : رَجُلٌ كَانَ يَقُولُ : اللَّهُمَّ زَحْزِحْنِي عَنِ النَّارِ ، وَلَا يَقُولُ : أَدْخِلْنِي الْجَنَّةَ ، فَإِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ ، وَأَهْلُ النَّارِ النَّارَ ، بَقِيَ ذَلِكَ الرَّجُلُ فَقَالَ : يَا رَبِّ ، مَا لِي هَهُنَا ؟ قَالَ : ذَاكَ الَّذِي كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنَ الْجَنَّةِ ، قَالَ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي ! قَالَ : فَيُنْشِئُ اللَّهُ لَهُ شَجَرَةً عَلَى بَابِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ فَآكُلَ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَسْتَظِلَّ بِظِلِّهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، أَلَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي أَنْ أُزَحْزِحَكَ عَنِ النَّارِ ؟ فَلَا يَزَالُ يَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : اذْهَبْ فَلَكَ مَا بَلَغَتْ قَدَمَاكَ ، وَرَأَتْ عَيْنَاكَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " هَذَا مَا كُنْتَ تَسْأَلُنِي يَا ابْنَ آدَمَ ، فَبَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ بَدَتْ لَهُ شَجَرَةٌ مِنْ بَابِ الْجَنَّةِ دَاخِلَةً الْجَنَّةَ ، قَالَ : يَا رَبِّ ، أَدْنِنِي مِنْ هَذِهِ الشَّجَرَةِ آكُلُ مِنْ ثَمَرِهَا ، وَأَسْتَظِلُّ فِي ظِلِّهَا ، فَيَقُولُ : يَا ابْنَ آدَمَ ، لَمْ تَكُنْ تَسْأَلُنِي ! قَالَ : يَا رَبِّ أَيْنَ مِثْلُكَ ؟ فَلَمْ يَزَلْ يَرَى شَيْئًا أَفْضَلَ مِنْ شَيْءٍ ، وَيَسْأَلُ حَتَّى يُقَالَ لَهُ : اذْهَبْ فَلَكَ مَا سَعَتْ قَدَمَاكَ ، وَمَا رَأَتْ عَيْنَاكَ ، فَيَسْعَى حَتَّى يَكَدَّ أَشَارَ بِيَدِهِ، قَالَ : هَذَا وَهَذَا ، فَيُقَالُ لَهُ : هَذَا لَكَ وَمِثْلُهُ مَعَهُ ، فَيَرْضَى حَتَّى يَرَى أَنَّهُ أَعْطَاهُ شَيْئًا مَا أَعْطَاهُ أَحَدًا مِنْ أَهْلِ الْجَنَّةِ ، فَيَقُولُ : لَوْ أُذِنَ لِي أَدْخَلْتُ أَهْلَ الْجَنَّةِ طَعَامًا ، وَشَرَابًا ، وَكِسْوَةً مِمَّا أَعْطَانِي اللَّهُ ، وَلَا يَنُقُصُنِي ذَلِكَ شَيْئًا " . وَفِي إِسْنَادِهِمَا مُوسَى بْنُ عُبَيْدَةَ الرَّبَذِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عوف بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” مجھے اُس شخص کے بارے میں پتا ہے جو جنت میں سب سے آخر میں داخل ہو گا ، وہ ایک ایسا شخص ہو گا جو یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے جہنم سے دور کر دے ، وہ یہ نہیں کہے گا : تو مجھے جنت میں داخل کر دے ، جب اہل جنت ، جنت میں داخل ہو جائیں گے اور اہل جہنم ، جہنم میں داخل ہو جائیں گے اور صرف وہ شخص باقی رہ جائے گا ، تو وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! کیا وجہ ہے کہ میں یہاں ہوں ؟ پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم نے مجھ سے مانگی تھی ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے جنت کے قریب کر دے ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے مانگنا نہیں تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : پھر اللہ تعالیٰ جنت کے دروازے کے پاس اس کے لیے ایک درخت پیدا کرے گا ، وہ شخص یہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں رہوں ، تو پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو صرف مجھ سے یہ سوال کیا تھا کہ میں تمہیں جہنم سے دور کر دوں ، وہ شخص مسلسل مانگتا رہے گا ، یہاں تک کہ اس سے کہا: جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب ملتا ہے ، جہاں تک کہ تمہارے قدم پہنچیں گے اور جہاں تک تمہاری آنکھیں دیکھیں گی ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے اس کی مانند نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! یہ وہ چیز ہے جو تم مجھ سے مانگ رہے تھے ، اسی دوران اس کے سامنے جنت کے دروازے کے پاس ایک درخت نظر آئے گا ، جو جنت کے اندرونی حصے میں ہو گا ، وہ کہے گا : اے میرے پروردگار ! تو مجھے اس درخت کے قریب کر دے تاکہ میں اس کا پھل کھاؤں اور اس کے سائے میں آ جاؤں ، پروردگار فرمائے گا : اے ابن آدم ! تم نے تو مجھ سے ( مزید کچھ ) مانگنا نہیں تھا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! تیری مثال کہاں ہے ، تو وہ شخص مسلسل یہی کرتا رہے گا کہ جب زیادہ بہتر چیز دیکھے گا تو وہ مانگنا شروع کر دے گا ، یہاں تک کہ اس سے یہ کہا: جائے گا : تم جاؤ ! تمہیں وہ سب کچھ ملتا ہے ، جہاں تک تمہارے قدم جائیں اور جو تمہاری آنکھیں دیکھیں ، تو وہ دوڑے گا ، یہاں تک کہ وہ تھک جائے گا ، اور وہ اپنے ہاتھ کے ذریعے اشارہ کر کے کہے گا : یہ اور یہ ، تو اُسے کہا: جائے گا : یہ تمہیں ملتا ہے اور اس کی مانند مزید ملتا ہے ، تو وہ راضی ہو جائے گا ، یہاں تک کہ وہ یہ سمجھے گا کہ اللہ تعالیٰ نے جو کچھ اسے عطا کیا ہے ، وہ اہل جنت میں سے کسی کو عطا نہیں کیا ، وہ کہے گا : اگر مجھے اجازت دی جائے تو اللہ تعالیٰ نے جو کچھ مجھے دیا ہے ، میں اُس میں سے اہل جنت کو کھانا ، مشروب اور لباس فراہم کروں ، پھر بھی جو کچھ میرے پاس ہے ، اس میں کوئی کمی نہیں ہو گی ۔ “ ان دونوں روایات کی سند میں ایک راوی موسیٰ بن عبیدہ ربذی ہے اور وہ ضعیف ہے ۔