حدیث نمبر: 18670
وَعَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِنَّ أَسْفَلَ أَهْلِ الْجَنَّةِ أَجْمَعِينَ دَرَجَةً لَمَنْ يَقُومُ عَلَى رَأْسِهِ عَشَرَةُ الْآفٍ ، بِيَدِي كُلِّ وَاحِدٍ صَحِيفَتَانِ ، وَاحِدَةٌ مِنْ ذَهَبٍ ، وَالْأُخْرَى مِنْ فِضَّةٍ ، فِي كُلِّ وَاحِدَةٍ لَوْنٌ لَيْسَ فِي الْأُخْرَى مِثْلُهُ ، يَأْكُلُ مِنْ آخِرِهَا مِثْلَ مَا يَأْكُلُ مِنْ أَوَّلِهَا ، يَجِدُ لِآخِرِهَا مِنَ الطِّيبِ وَاللَّذَّةِ مِثْلَ الَّذِي يَجِدُ لِأَوَّلِهَا ، ثُمَّ يَكُونُ ذَلِكَ رِيحَ الْمِسْكِ الْأَذْفَرِ ، لَا يَبُولُونَ ، وَلَا يَتَغَوَّطُونَ ، وَلَا يَتَمَخَّطُونَ ، إِخْوَانًا عَلَى سُرُرٍ مُتَقَابِلِينَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اہل جنت میں جو سب سے کم مرتبہ کا شخص ہو گا اس کے سرہانے بھی دس ہزار ملازمین موجود ہوں گے جن میں سے ہر ایک کے ہاتھوں میں دو دو برتن ہوں گے ، ان میں سے ایک سونے کا ہو گا اور دوسرا چاندی کا ہو گا اور ان میں سے ہر ایک میں مختلف قسم کا کھانا ہو گا وہ شخص آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کھائے گا ، جس طرح پہلے میں سے کھائے گا اور اسے آخری برتن میں سے بھی اسی طرح کی خوشبو اور لذت محسوس ہو گی جس طرح کی پہلے برتن میں سے محسوس ہوئی تھی ( یعنی زیادہ کھانے کی وجہ سے اس کی خوشبو یا لذت میں کمی نہیں ہو گی ) اور پھر وہ سب کھانا مشک اذفر کی طرح کی خوشبو میں تبدیل ہو جائے گا ، اہل جنت کو پیشاب یا پاخانہ کی حاجت نہیں ہو گی اور نہ انہیں بلغم تھوکنے کی ضرورت ہو گی ، وہ بھائی بھائی ہوں گے اور پلنگوں پر ایک دوسرے کے مدمقابل بیٹھے ہوں گے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب أهل الجنة / حدیث: 18670
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح