مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ النَّارِ ، وَعَلَامَتِهَا ، وَأَوَّلِ مَنْ يُكْسَى حُلَلَهَا . باب: اہل جہنم اور ان کی علامت کا بیان اور سب سے پہلے کس کو اس ( جہنم ) کا حلہ پہنایا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 18620
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَى قَوْمٍ فَقَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً يَمْلَأُ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةِ بْنِ سَابِقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو کسی قوم کی طرف مبعوث کیا اور جب اس نبی کو وفات دیدی تو اس کے بعد کچھ زمانہ ایسا رہا ، جس میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ، اللہ تعالیٰ اس درمیانی زمانے کے لوگوں کے ذریعے جہنم کو بھر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔