مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ النَّارِ ، وَعَلَامَتِهَا ، وَأَوَّلِ مَنْ يُكْسَى حُلَلَهَا . باب: اہل جہنم اور ان کی علامت کا بیان اور سب سے پہلے کس کو اس ( جہنم ) کا حلہ پہنایا جائے گا ؟
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا سُرَاقَةُ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قَالَ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكَلُّ جَعْظَرِيٍّ ، جَوَّاظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَاوِيًا لَمْ يُسَمَّ . ¤علی بن رباح بیان کرتے ہیں : سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے سراقہ ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے تو ہر بددماغ ، بدتمیز ، متکبر ( شخص جہنمی ہے ) اور جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو کمزور اور مغلوب لوگ ( جنتی ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔