کتب حدیث ›
مجمع الزوائد ومنبع الفوائد › ابواب
› باب: اہل جہنم اور ان کی علامت کا بیان اور سب سے پہلے کس کو اس ( جہنم ) کا حلہ پہنایا جائے گا ؟
حدیث نمبر: 18611
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ [ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ - أَوْ حَاجِبَيْهِ - وَيَسْحَبُهَا مَنْ بَعْدَهُ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ - أَوْ مِنْ خَلْفِهِ - وَهُوَ يُنَادِي : يَا ثُبُورَاهْ ، وَيُنَادُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ ، حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ ، وَيَقُولُونَ : يَا ثُبُورِهِمْ فَيُقَالُ لَهُمْ : لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا ، وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے پہلے آگ کا حلہ ابلیس کو پہنایا جائے گا ، وہ اسے اپنی ” بھنو “ پر رکھے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بھنووں پر رکھے گا اور اپنے پیچھے کھینچ کر چلے گا ، اس کی ذریت اس کے بعد ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے پیچھے ہو گی اور وہ پکار کر کہہ رہا ہو گا : ہائے بربادی ! اور اس کی ذریت کے لوگ دو مرتبہ کہیں گے : ہائے بربادی ، یہاں تک کہ وہ لوگ جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے ، تو ابلیس کہے گا : ہائے میری بربادی ، اور وہ لوگ کہیں گے : ہائے ہماری بربادی ، تو ان سے کہا: جائے گا : آج تم ایک مرتبہ بربادی کا نہ کہو ، بلکہ تم بکثرت بربادی کا تذکرہ کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حدیث نمبر: 18612
وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقْبَلَتِ النَّارُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي ، أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكَ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ، فَتُخْرِجُ لِسَانَهَا فَتَلْتَقِطُهُمْ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكْفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ جَبَّارٍ كَفُورٍ . فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ جَبَّارٍ فَخُورٍ ، فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ وَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْعِبَادِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، تو جہنم آئے گی ، جس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہی ہو گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد میرے حوالے کر دیے جائیں ، ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ تو وہ کہے گی : ہر متکبر سرکش ، پھر وہ اپنی زبان نکالے گی اور لوگوں کے درمیان میں سے ان لوگوں کو اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں پھینک دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ، یا پھر میں سب ہی لوگوں کو ایک ساتھ اپنی گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ جواب دے گی : ہر ناشکرا سرکش ، پھر وہ ان لوگوں کو دوسرے لوگوں کے درمیان میں سے اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا ، اُس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ کہے گی : ہر متکبر ، فخر کرنے والا شخص ، پھر وہ اپنی زبان کے ذریعے انہیں پکڑ لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ پیچھے ہٹ جائے گی ، اور اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔
حدیث نمبر: 18613
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَخْرُجُ عُنُقٌ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَتَكَلَّمُ بِلِسَانٍ طَلِقٍ ذَلِقٍ ، لَهَا عَيْنَانِ تُبْصِرُ بِهِمَا ، وَلَهَا لِسَانٌ تَكَلَّمُ بِهِ ، فَتَقُولُ : إِنِّي أُمِرْتُ بِمَنْ جَعَلَ مَعَ اللَّهِ إِلَهًا آخَرَ ، وَبِكُلِّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ ، وَبِمَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ ، فَتَنْطَلِقُ بِهِمْ قَبْلَ سَائِرِ النَّاسِ بِخَمْسِمِائَةِ عَامٍ " .
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” قیامت کے دن جہنم میں سے گردن نکلے گی اور فصیح و بلیغ زبان میں کلام کرے گی ، اس کی دو آنکھیں ہوں گی ، جن کے کے ذریعے وہ دیکھے گی اور اس کی ایک زبان ہو گی ، جس کے ذریعے وہ کلام کرے گی اور یہ کہے گی : مجھے یہ حکم دیا گیا ہے کہ جو شخص اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی دوسرے معبود کا قائل تھا اور ہر سرکش متکبر کو اور جس نے کسی کو ناحق قتل کیا ہو ( اس کو بھی گرفت میں لینے کا مجھے حکم دیا گیا ہے ) باقی سب لوگوں سے پانچ سو سال پہلے وہ انہیں لے کر چلی جائے گی ۔ “
حدیث نمبر: 18614
وَفِي رِوَايَةٍ : " فَتَنْطَوِي عَلَيْهِمْ فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَاللَّفْظُ لَهُ ، وَأَحْمَدُ بِاخْتِصَارٍ ، وَأَبُو يَعْلَى بِنَحْوِهِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَأَحَدُ إِسْنَادَيِ الطَّبَرَانِيِّ رِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” وہ انہیں اپنی لپیٹ میں لے گی اور انہیں جہنم میں پھینک دے گی ۔ “
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ، طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، روایت کے الفاظ ان کے نقل کردہ ہیں ، اسے امام أحمد نے اختصار کے ساتھ نقل کیا ہے اور امام ابویعلیٰ نے اس کی مانند روایت نقل کی ہے ، طبرانی نے معجم اوسط میں اسے نقل کیا ہے ، طبرانی کی دو اسناد میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18615
وَعَنْ مُحَمَّدِ بْنِ وَاسِعٍ قَالَ : قُلْتُ لِبِلَالِ بْنِ أَبِي بُرْدَةَ : إِنَّ أَبَاكَ حَدَّثَنِي عَنْ جَدِّكَ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ فِي جَهَنَّمَ وَادِيًا ، فِي الْوَادِي بِئْرٌ يُقَالُ لَهَا : هَبْهَبُ ، حَقًّا عَلَى اللَّهِ أَنْ يُسْكِنَهَا كُلَّ جَبَّارٍ عَنِيدٍ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ أَزْهَرُ بْنُ سِنَانٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
محمد بن واسع بیان کرتے ہیں : میں نے بلال بن ابوبردہ سے کہا: آپ کے والد ( ابوبردہ ) نے مجھے آپ کے دادا ( سیدنا ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ ) کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے منقول یہ حدیث سنائی ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” جہنم میں ایک وادی ہے ، اُس وادی میں ایک کنواں ہے جس کا نام ” ہبہب “ ہے ، اللہ تعالیٰ کے ذمہ یہ بات لازم ہے کہ وہ ہر ظالم سرکش کو اس میں ٹھہرائے ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی ازہر بن سنان ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18616
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا أُنْبِئُكُمْ بِأَهْلِ النَّارِ ؟ كُلُّ سَفِيهٍ جَعْظَرِيٍّ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ الْبَرَاءُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کیا میں تمہیں اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ، ہر بے وقوف بدتمیز شخص ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی براء بن عبداللہ ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حدیث نمبر: 18617
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ عِنْدَ ذِكْرِ النَّارِ : " أَهْلِ النَّارِ كُلُّ جَعْظَرِيٍّ جَوَّاظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ ، جَمَّاعٍ مَنَّاعٍ ، وَأَهْلُ الْجَنَّةِ الضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جہنم کے ذکر کے دوران نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا : ” اہل جہنم ، ہر بدتمیز ، بدماغ ، متکبر ، ( مال کو ) بہت زیادہ جمع کرنے والا ، ( اس کو اللہ کی راہ میں خرچ کرنے سے ) روکنے والا ، اور اہل جنت ( دنیا میں ) کمزور اور مغلوب لوگ ہیں ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حدیث نمبر: 18618
وَعَنِ ابْنِ غُنْمٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَا يَدْخُلُ الْجَنَّةَ الْجَوَّاظُ الْجَعْظَرِيُّ ، وَالْعُتُلُّ الزَّنِيمُ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَإِسْنَادُهُ حَسَنٌ ، إِلَّا أَنَّ ابْنَ عُنْمٍ لَمْ يَسْمَعْ مِنَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - . ¤
محمد محی الدین
ابن غنم روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جنت میں بددماغ ، بدتمیز ، جھگڑالو ، نطفہ حرام ، داخل نہیں ہو گا ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، ابن غنم نامی راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کی سند حسن ہے ، ابن غنم نامی راوی نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سماع نہیں کیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18619
وَعَنْ عُلَيِّ بْنِ رَبَاحٍ قَالَ : بَلَغَنِي عَنْ سُرَاقَةَ بْنِ مَالِكٍ : أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ لَهُ : " يَا سُرَاقَةُ ، أَلَا أُخْبِرُكَ بِأَهْلِ الْجَنَّةِ وَأَهْلِ النَّارِ ؟ " . قَالَ : بَلَى . يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ : " أَمَّا أَهْلُ النَّارِ فَكَلُّ جَعْظَرِيٍّ ، جَوَّاظٍ ، مُسْتَكْبِرٍ ، وَأَمَّا أَهْلُ الْجَنَّةِ فَالضُّعَفَاءُ الْمَغْلُوبُونَ " . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، إِلَّا أَنَّ فِيهِ رَاوِيًا لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین
علی بن رباح بیان کرتے ہیں : سیدنا سراقہ بن مالک رضی اللہ عنہ کے حوالے سے مجھ تک یہ روایت پہنچی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا : ” اے سراقہ ! کیا میں تمہیں اہل جنت اور اہل جہنم کے بارے میں نہ بتاؤں ؟ انہوں نے عرض کی : جی ہاں ! یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک اہل جہنم کا تعلق ہے تو ہر بددماغ ، بدتمیز ، متکبر ( شخص جہنمی ہے ) اور جہاں تک اہل جنت کا تعلق ہے تو کمزور اور مغلوب لوگ ( جنتی ہیں ) ۔ “
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، تاہم اس کی سند میں ایک ایسا راوی ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔
حدیث نمبر: 18620
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " مَا بَعَثَ اللَّهُ نَبِيًّا إِلَى قَوْمٍ فَقَبَضَهُ إِلَّا جَعَلَ بَعْدَهُ فَتْرَةً يَمْلَأُ مِنْ تِلْكَ الْفَتْرَةِ جَهَنَّمَ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ صَدَقَةِ بْنِ سَابِقٍ ، وَهُوَ ثِقَةٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : اللہ تعالیٰ نے جس بھی نبی کو کسی قوم کی طرف مبعوث کیا اور جب اس نبی کو وفات دیدی تو اس کے بعد کچھ زمانہ ایسا رہا ، جس میں کوئی نبی مبعوث نہیں ہوا ، اللہ تعالیٰ اس درمیانی زمانے کے لوگوں کے ذریعے جہنم کو بھر دے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف صدقہ بن سابق کا معاملہ مختلف ہے اور وہ ثقہ ہے ۔