مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ فِي كِبْرِهِ يَدْخُلُ النَّارَ . باب: اس کا بیان ، کہ کتنی بڑی ( تعداد ) جہنم میں داخل ہو گی
عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ اللَّهَ - عَزَّ وَجَلَّ - يَقُولُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ لِآدَمَ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - : قُمْ فَجَهِّزْ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ تِسْعَمِائَةٍ وَتِسْعَةً وَتِسْعِينَ إِلَى النَّارِ ، وَوَاحِدًا إِلَى الْجَنَّةِ " . فَبَكَى أَصْحَابُهُ وَبَكَوْا ، ثُمَّ قَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " ارْفَعُوا رُءُوسَكُمْ ، فَوَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ ، مَا أُمَّتِي فِي الْأُمَمِ إِلَّا كَالشَّعْرَةِ الْبَيْضَاءِ فِي جِلْدِ الثَّوْرِ الْأَسْوَدِ " . فَخَفَّفَ ذَلِكَ عَنْهُمْ . رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْنَادُهُ جَيِّدٌ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سیدنا آدم علیہ السلام سے یہ فرمائے گا : تم اُٹھو اور اپنی ذریت میں سے نو سو ننانوے افراد کو جہنم کی طرف بھجوا دو ! اور ایک فرد کو جنت کی طرف بھجواؤ ۔ “ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب رونے لگے ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے فرمایا : ” اپنے سر اٹھاؤ ! اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، دیگر امتوں کے مقابلے میں ، میری امت کی مثال یوں ہے ، جیسے سیاہ بیل کی کھال پر ، سفید بال موجود ہو “ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) تو اس سے لوگوں کی طبیعت سنبھلی ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اس کی سند عمدہ ہے ۔