مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب صفة أهل النار— جہنم کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ النَّارِ ، وَعَلَامَتِهَا ، وَأَوَّلِ مَنْ يُكْسَى حُلَلَهَا . باب: اہل جہنم اور ان کی علامت کا بیان اور سب سے پہلے کس کو اس ( جہنم ) کا حلہ پہنایا جائے گا ؟
وَعَنْ أَبِي سَعْدٍ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " إِذَا جَمَعَ اللَّهُ النَّاسَ فِي صَعِيدٍ وَاحِدٍ يَوْمَ الْقِيَامَةِ أَقْبَلَتِ النَّارُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي ، أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكَ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ مُتَكَبِّرٍ جَبَّارٍ ، فَتُخْرِجُ لِسَانَهَا فَتَلْتَقِطُهُمْ مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكْفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ جَبَّارٍ كَفُورٍ . فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا مِنْ بَيْنِ ظَهْرَانَيِ النَّاسِ ، فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ ، ثُمَّ تُقْبِلُ يَرْكَبُ بَعْضُهَا بَعْضًا ، وَخَزَنَتُهَا يَكُفُّونَهَا ، وَهِيَ تَقُولُ : وَعِزَّةِ رَبِّي ، لَيُخَلَّيَنَّ بَيْنِي وَبَيْنَ أَزْوَاجِي أَوْ لَأَغْشَيَنَّ النَّاسَ عُنُقًا وَاحِدَةً . فَيَقُولُونَ : وَمَنْ أَزْوَاجُكِ ؟ فَتَقُولُ : كُلُّ جَبَّارٍ فَخُورٍ ، فَتَلْتَقِطُهُمْ بِلِسَانِهَا فَتَقْذِفُهُمْ فِي جَوْفِهَا ، ثُمَّ تَسْتَأْخِرُ وَيَقْضِي اللَّهُ بَيْنَ الْعِبَادِ " . رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ وُثِّقُوا، إِلَّا أَنَّ ابْنَ إِسْحَاقَ مُدَلِّسٌ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جب اللہ تعالیٰ قیامت کے دن سب لوگوں کو ایک میدان میں اکٹھا کرے گا ، تو جہنم آئے گی ، جس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے اور وہ یہ کہہ رہی ہو گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد میرے حوالے کر دیے جائیں ، ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ تو وہ کہے گی : ہر متکبر سرکش ، پھر وہ اپنی زبان نکالے گی اور لوگوں کے درمیان میں سے ان لوگوں کو اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں پھینک دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا اور اس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ، یا پھر میں سب ہی لوگوں کو ایک ساتھ اپنی گرفت میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ جواب دے گی : ہر ناشکرا سرکش ، پھر وہ ان لوگوں کو دوسرے لوگوں کے درمیان میں سے اچک لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ واپس آئے گی تو اس کا ایک حصہ دوسرے پر سوار ہو رہا ہو گا ، اُس کے نگران فرشتے اسے روک رہے ہوں گے ، وہ کہے گی : میرے پروردگار کی عزت کی قسم ہے ، یا تو میرے متعلقہ افراد کو میرے حوالے کر دو ورنہ میں سب لوگوں کو ایک ساتھ اپنی لپیٹ میں لے لوں گی ، فرشتے دریافت کریں گے : تمہارے متعلقہ افراد کون ہیں ؟ وہ کہے گی : ہر متکبر ، فخر کرنے والا شخص ، پھر وہ اپنی زبان کے ذریعے انہیں پکڑ لے گی اور انہیں اپنے پیٹ میں ڈال دے گی ، پھر وہ پیچھے ہٹ جائے گی ، اور اللہ تعالیٰ بندوں کے درمیان فیصلہ کرے گا ۔ “
یہ روایت امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے تاہم ابن اسحاق نامی راوی مدلس ہے ۔