حدیث نمبر: 18611
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ [ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ] قَالَ : " أَوَّلُ مَنْ يُكْسَى حُلَّةً مِنَ النَّارِ إِبْلِيسُ ، فَيَضَعُهَا عَلَى حَاجِبِهِ - أَوْ حَاجِبَيْهِ - وَيَسْحَبُهَا مَنْ بَعْدَهُ وَذُرِّيَّتُهُ مِنْ بَعْدِهِ - أَوْ مِنْ خَلْفِهِ - وَهُوَ يُنَادِي : يَا ثُبُورَاهْ ، وَيُنَادُونَ : يَا ثُبُورَهُمْ مَرَّتَيْنِ ، حَتَّى يَقِفُوا عَلَى النَّارِ فَيَقُولُ : يَا ثُبُورَاهُ ، وَيَقُولُونَ : يَا ثُبُورِهِمْ فَيُقَالُ لَهُمْ : لَا تَدْعُوا الْيَوْمَ ثُبُورًا وَاحِدًا ، وَادْعُوا ثُبُورًا كَثِيرًا " . رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے پہلے آگ کا حلہ ابلیس کو پہنایا جائے گا ، وہ اسے اپنی ” بھنو “ پر رکھے گا ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) بھنووں پر رکھے گا اور اپنے پیچھے کھینچ کر چلے گا ، اس کی ذریت اس کے بعد ہو گی ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) اس کے پیچھے ہو گی اور وہ پکار کر کہہ رہا ہو گا : ہائے بربادی ! اور اس کی ذریت کے لوگ دو مرتبہ کہیں گے : ہائے بربادی ، یہاں تک کہ وہ لوگ جہنم کے پاس پہنچ جائیں گے ، تو ابلیس کہے گا : ہائے میری بربادی ، اور وہ لوگ کہیں گے : ہائے ہماری بربادی ، تو ان سے کہا: جائے گا : آج تم ایک مرتبہ بربادی کا نہ کہو ، بلکہ تم بکثرت بربادی کا تذکرہ کرو ۔ “
یہ روایت امام أحمد اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف علی بن زید کا معاملہ مختلف ہے اور اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18611
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3495) أخرجه احمد فى المسند (152/3)»