حدیث نمبر: 18591
وَعَنْ لُقْمَانَ بْنِ عَامِرٍ قَالَ : جِئْتُ أَبَا أُمَامَةَ فَقُلْتُ : حَدِّثْنَا مَا سَمِعْتَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " لَوْ أَنَّ صَخْرَةً وَزَنَتْ عَشْرَ خَلِفَاتٍ ، قُذِفَ بِهَا مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مَا بَلَغَتْ قَعْرَهَا سَبْعِينَ خَرِيفًا حَتَّى تَنْتَهِيَ إِلَى غَيٍّ وَأَثَامٍ " . قِيلَ : وَمَا غَيٌّ وَأَثَامٌ ؟ قِيلَ : " بِئْرَانِ فِي جَهَنَّمَ ، يَسِيلُ فِيهِمَا صَدِيدُ أَهْلِ النَّارِ ، وَهُمَا اللَّذَانِ ذَكَرَهُمَا اللَّهُ فِي كِتَابِهِ : " أَضَاعُوا الصَّلَاةَ وَاتَّبَعُوا الشَّهَوَاتِ فَسَوْفَ يَلْقَوْنَ غَيًّا " وَقَوْلُهُ : " وَمَنْ يَفْعَلْ ذَلِكَ يَلْقَ أَثَامًا " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَفِيهِ ضُعَفَاءُ قَدْ وَثَّقَهُمُ ابْنُ حِبَّانَ وَقَالَ : يُخْطِئُونَ . ¤
محمد محی الدین

لقمان بن عامر بیان کرتے ہیں : میں سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا ، میں نے کہا: آپ مجھے کوئی ایسی حدیث بیان کیجئے جو آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہو ، تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے : ” کوئی ایسا پتھر جس کا وزن دس حاملہ اونٹنیوں جتنا ہو ، اگر اُسے جہنم کے کنارے سے پھینکا جائے تو وہ ستر سال تک بھی اس کی تہہ تک نہیں پہنچ پائے گا ، یہاں تک کہ وہ ” غی “ اور ” اثام “ تک پہنچ جائے ۔ “ عرض کی گئی : ” غی “ اور ” اثام “ سے مراد کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” یہ جہنم میں موجود دو کنویں ہیں ، ان دونوں میں اہل جہنم کی پیپ بہتی ہے اور یہ دونوں وہی ہیں ، جن کا ذکر اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں ان الفاظ میں کیا ہے : ( ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” انہوں نے نماز کو ضائع کیا ، اور نفسانی خواہشات کی پیروی کی ، تو وہ عنقریب ” غی “ سے جا ملیں گے ۔ “ ( اور ارشاد باری تعالیٰ ہے : ) ” جو شخص ایسا کرے گا وہ ” اثام “ تک پہنچ جائے گا ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اس کی سند میں ضعیف راوی ہیں جنہیں ابن حبان نے ثقہ قرار دیا ہے اور یہ کہا: ہے : یہ غلطی کر جاتے ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18591
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7731)»