حدیث نمبر: 18590
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَوْتًا هَالَهُ ، فَأَتَاهُ جِبْرِيلُ - عَلَيْهِ السَّلَامُ - فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الصَّوْتُ يَا جِبْرِيلُ ؟ " . فَقَالَ : هَذِهِ صَخْرَةٌ هَوَتْ مِنْ شَفِيرِ جَهَنَّمَ مِنْ سَبْعِينَ عَامًا ، فَهَذَا حِينَ بَلَغَتْ قَعْرَهَا ، فَأَحَبَّ اللَّهُ أَنْ أُسْمِعَكَ صَوْتَهَا . فَمَا رُؤِيَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ضَاحِكًا مِلْءَ فِيهِ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ إِسْمَاعِيلُ بْنُ قَيْسٍ الْأَنْصَارِيُّ وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک آواز سنی جو ہولناک تھی ، سیدنا جبرائیل علیہ السلام آپ کے پاس آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : اے جبرائیل ! یہ کیسی آواز تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : یہ پتھر کی آواز تھی ، جو ستر سال پہلے جہنم کے کنارے سے گرنا شروع ہوا تھا اور اس وقت وہ اُس کی تہہ تک پہنچا تھا ، تو اللہ تعالیٰ نے اس بات کو پسند کیا کہ اُس کی آواز آپ کو سنا دے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : اس کے بعد کبھی بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کھل کر ہنستے ہوئے نہیں دیکھا گیا ، یہاں تک کہ آپ کو اللہ تعالیٰ نے وفات دیدی ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی اسماعیل بن قیس انصاری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18590
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (819)»