مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ . باب: اذان کیسے دی جائے گی ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ بِلَالًا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عِنْدَ الْأَذَانِ فِي الصُّبْحِ فَوَجَدَهُ نَائِمًا ، فَنَادَاهُ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَلَمْ يُنْكِرْهُ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَدْخَلَهُ فِي الْأَذَانِ ، فَلَا يُؤَذَّنُ لِصَلَاةٍ قَبْلَ وَقْتِهَا غَيْرَ صَلَاةِ الْفَجْرِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَقَالَ : تَفَرَّدَ بِهِ مَرْوَانُ بْنُ ثَوْبَانَ . قُلْتُ : وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ صبح کی اذان کے وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ کو سوئے ہوئے پایا انہوں نے بلند میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے یہ کہا: نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا انکار نہیں کیا اور ان کلمات کو اذان میں شامل کر لیا وہ فجر کی نماز کے علاوہ اور کسی نماز کے لئے بھی اس کے مخصوص وقت سے پہلے اذان نہیں دیتے تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے وہ فرماتے ہیں : مروان بن ثوبان اسے نقل کرنے میں منفرد ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔