مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الصلاة— نماز کے بارے میں روایات
بَابُ كَيْفَ الْأَذَانُ . باب: اذان کیسے دی جائے گی ؟
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَعَادَ إِلَيْهِ فَرَأَى مِنْهُ ثِقْلَةً ، فَقَالَ : " مُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " ، فَذَهَبَ فَأَذَّنَ ، فَزَادَ فِي أَذَانِهِ : " الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ " ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " مَا هَذَا الَّذِي زِدْتَ فِي أَذَانِكَ ؟ " قَالَ : رَأَيْتُ مِنْكَ ثِقْلَةً فَأَحْبَبْتُ أَنْ تَنْشَطَ ، فَقَالَ : " اذْهَبْ فَزِدْهُ فِي أَذَانِكَ ، وَمُرُوا أَبَا بَكْرٍ فَلْيُصَلِّ بِالنَّاسِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ قُسَيْطٍ ، وَلَمْ أَجِدْ مَنْ ذَكَرَهُ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے بلانے آئے تو آپ نے فرمایا : ابوبکر کو کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ واپس آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے انہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت کی خرابی کا اندازہ ہوا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ابوبکر سے کہو کہ لوگوں کو نماز پڑھا دے وہ گئے انہوں نے اذان دی اور اذان میں یہ کلمات زائد ادا کیے نماز نیند سے بہتر ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے دریافت کیا : تم نے اپنی اذان میں یہ کیا کلمات زائد کیے ہیں تو انہوں نے عرض کی : میں نے آپ کو دیکھا کہ آپ کی طبیعت بوجھل ہے ، تو مجھے یہ اچھا لگا کہ آپ ہشاش بشاش ہو جائیں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جاؤ اور اس کو اپنی اذان میں اضافہ کر دو اور ابوبکر سے کہو کہ وہ لوگوں کو نماز پڑھا دے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبدالرحمن بن قسیط ہے میں نے کسی کو اس کا ذکر کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔