حدیث نمبر: 1860
وَعَنْ عَائِشَةَ قَالَتْ : جَاءَ بِلَالٌ إِلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يُؤْذِنُهُ بِصَلَاةِ الصُّبْحِ ، فَوَجَدَهُ نَائِمًا فَقَالَ : الصَّلَاةُ خَيْرٌ مِنَ النَّوْمِ ، فَأُقِرَّتْ فِي أَذَانِ الصُّبْحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحُ بْنُ أَبِيِ الْأَخْضَرِ ، وَاخْتُلِفَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ ، وَلَمْ يَنْسِبْهُ أَحَدٌ إِلَى الْكَذِبِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : سیدنا بلال رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آپ کو صبح کی نماز کے لئے اطلاع دینے کے لئے آئے تو آپ کو سوتے ہوئے پایا انہوں نے کہا: نماز نیند سے بہتر ہے ، تو یہ کلمات صبح کی نماز میں برقرار رکھے گئے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح بن ابوخضر ہے ، جس سے استدلال کرنے کے بارے میں اختلاف کیا گیا ہے کسی نے اس کی نسبت جھوٹ کی طرف نہیں کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الصلاة / حدیث: 1860
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «المعجم الاوسط للطبراني باب العين باب الميم من اسمه محمد حديث 7726»