حدیث نمبر: 18579
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " شِدَّةُ الْحَرِّ مِنْ فَيْحِ جَهَنَّمَ فَأَبْرِدُوا عَنِ الصَّلَاةِ - يَعْنِي فِي شِدَّةِ الْحَرِّ - وَشَكَتِ النَّارُ إِلَى رَبِّهَا ، فَقَالَتْ : يَا رَبِّ ، أَكَلَ بَعْضِي بَعْضًا ، فَأَذِنَ لَهَا بِنَفَسَيْنِ فِي كُلِّ عَامٍ ، فَنَفَسُهَا فِي الشِّتَاءِ الزَّمْهَرِيرُ ، وَنَفَسُهَا فِي الصَّيْفِ السَّمُومُ " . قُلْتُ : هُوَ فِي الصَّحِيحِ ، وَغَيْرِهِ بِاخْتِصَارِ شِكَايَةِ النَّارِ . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ ، وَقَدْ وُثِّقَ عَلَى ضَعْفِهِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” گرمی کی شدت جہنم کی تفتیش کا حصہ ہے ، تم نماز کے وقت اُسے ٹھنڈا کرو ! ( راوی کہتے ہیں : یعنی گرمی کی شدت کے وقت ایسا کرو ) جہنم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں شکایت کرتے ہوئے یہ کہا: اے میرے پروردگار ! میرا ایک حصہ ، دوسرے کو کھا جاتا ہے ، تو پروردگار نے اسے ہر سال میں دو مرتبہ سانس لینے کی اجازت دی ، اُس کی ایک سانس سردیوں کے موسم میں ہوتی ہے جو شدید سردی کی شکل میں ہوتی ہے اور ایک سانس گرمیوں کے موسم میں ہوتی ہے ، جو شدید گرمی کی شکل میں ہوتی ہے ۔ “ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت ” صحیح “ اور دیگر کتابوں میں اختصار کے ساتھ مذکور ہے جس میں صرف جہنم کے شکایت کرنے کا ذکر ہے ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عطیہ ہے ، جس میں موجود ضعف کے باوجود اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18579
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3492)»