حدیث نمبر: 18568
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّهُ قَالَ لِجِبْرِيلَ : " مَا لِي لَا أَرَى مِيكَائِيلَ ضَاحِكًا قَطُّ ؟ ! " . قَالَ : مَا ضَحِكَ مِيكَائِيلُ مُنْذُ خُلِقَتِ النَّارُ . رَوَاهُ أَحْمَدُ مِنْ رِوَايَةِ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، عَنِ الْمَدَنِيِّينَ وَهِيَ ضَعِيفَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . قُلْتُ : وَيَأْتِي حَدِيثُ أَبِي سَعِيدٍ فِي بُعْدِ قَعْرِهَا . ¤
محمد محی الدین

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : آپ نے سیدنا جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا : کیا وجہ ہے میں نے نے میکائیل کو کبھی ہنستے ہوئے نہیں دیکھا ہے ؟ سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے جواب دیا : جب سے جہنم پیدا ہوئی ہے سیدنا میکائیل علیہ السلام کبھی نہیں ہنسے ہیں ۔
یہ روایت امام أحمد نے اسماعیل بن عیاش کی اہل مدینہ سے نقل کردہ روایت کے طور پر نقل کی ہے اور یہ روایت ضعیف ہے اس روایت کے بقیہ رجال سے ثقہ ہیں ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : جہنم کی گہرائی کے بارے میں ، سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ کی نقل کردہ روایت آگے آئے گی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب صفة أهل النار / حدیث: 18568
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (224/3)»