مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب البعث— دوبارہ زندہ کیے جانے کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي رَحْمَةِ اللَّهِ تَعَالَى . باب: اللہ تعالیٰ کی رحمت کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " قَسَّمَ رَبُّنَا رَحْمَتَهُ مِائَةَ جُزْءٍ ، فَأَنْزَلَ مِنْهَا جُزْءًا فِي الْأَرْضِ ، فَهُوَ الَّذِي يَتَرَاحَمُ بِهِ النَّاسُ ، وَالطَّيْرُ ، وَالْبَهَائِمُ ، وَبَقِيَتْ عِنْدَهُ مِائَةُ رَحْمَةٍ ، إِلَّا رَحْمَةً وَاحِدَةً لِعِبَادِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ ، وَإِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى لَمْ يُدْرِكْ عُبَادَةَ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ غَيْرَ إِسْحَاقِ بْنِ يَحْيَى . ¤سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ہمارے پروردگار نے اپنی رحمت کو ایک سو اجزاء میں تقسیم کیا اور ان میں سے ایک جزء زمین میں نازل کر دیا ، اسی کی وجہ سے لوگ ، پرندے اور جانور ، ایک دوسرے پر رحم کرتے ہیں ، باقی ننانوے رحمتیں ( یعنی رحمت کے بقیہ ننانوے اجزاء ) پروردگار کے پاس ہیں ، جو قیامت کے دن اس کے بندوں کے لئے ہیں ۔ “
یہ روایت امام طبرانی نے نقل کی ہے اور اسحاق بن یحیی نامی راوی نے سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ کا زمانہ نہیں پایا ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال صحیح کے رجال ہیں ، صرف اسحاق بن یحیی کا معاملہ مختلف ہے ۔