حدیث نمبر: 18553
وَعَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ أَنَّهُ قَالَ : قَدِمَ سَبْيٌ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قُلْتُ : فَذَكَرَ الْحَدِيثَ إِلَى أَنْ قَالَ : - وَبَلَغَنِي : أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - كَانَ فِي بَعْضِ مَغَازِيهِ ، فَبَيْنَمَا هُمْ يَسِيرُونَ إِذْ أَخَذُوا فَرْخَ طَيْرٍ ، فَأَقْبَلَ أَحَدُ أَبَوَيْهِ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِي الَّذِي أَخَذَهُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَلَا تَعْجَبُونَ لِهَذَا الطَّيْرِ ؟ أَخَذَ فَرْخَهُ فَأَقْبَلَ حَتَّى سَقَطَ فِي أَيْدِيهِمْ ، وَاللَّهِ لَلَّهُ أَرْحَمُ بِخَلْقِهِ مِنْ هَذَا الطَّيْرِ بِفَرْخِهِ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ مِنْ طَرِيقَيْنِ ، وَرِجَالُ إِحْدَاهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : کچھ قیدی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : اس کے بعد انہوں نے پوری حدیث ذکر کی ہے ، جس میں آگے چل کر یہ الفاظ ہیں : ” مجھے یہ بات پتہ چلی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک غزوہ کے دوران سفر کر رہے تھے ، اسی دوران آپ کے اصحاب میں سے کسی نے کسی پرندے کے بچے کو پکڑ لیا ، اُس بچے کے ماں باپ میں سے کوئی ایک آیا اور اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ، جس نے اس بچے کو پکڑا تھا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس پرندے پر حیران نہیں ہو رہے ہو ؟ اس کے بچے کو پکڑا گیا ، تو یہ آیا اور آ کر اس کے ہاتھ پر بیٹھ گیا ( جس نے اس کے بچے کو پکڑا تھا ) اللہ کی قسم ! اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق کے بارے میں اس سے زیادہ رحم کرنے والا ہے ، جتنا یہ پرندہ اپنے بچے پر رحم کرنے والا ہے ۔ “
یہ روایت امام بزار نے دو حوالوں سے نقل کی ہے ان دونوں میں سے ایک کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب البعث / حدیث: 18553
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (3477)»